تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 230
وہ یہ ہیں اَلْخَیْطُ یُمَدُّ عَلی البِنَاءِ فَیُبْنٰی۔یعنی وہ تاگہ جس کے ساتھ معمار دیوار کی کجی کومعلوم کرتے ہیں۔(اقرب) رَحْمَۃٌ۔اَلرَّحْمَۃُ رِقَّۃُ الْقَلْبِ وَاِنْعِطَافٌ یَقْتَضِی التَّفَضُّلَ وَالْاِحْسَانَ وَالْمَغْفِرَۃَ۔یعنی رحمت دل کی نرمی اور ایسے جذبۂ ترحم کو کہتے ہیں جو فضل احسان اور بخشش کرنے کی تحریک کرے۔(اقرب) حِزْبٌ۔اَلْاَحْزَابُ حِزْبٌ کی جمع ہے۔اَلْحِزْبُ اَلطَّائِفَۃُ جتھا۔جَمَاعَۃُ النَّاسِ۔لوگوں کا گروہ۔جُنْدُ الرَّجُلِ وَاَصْـحَابُہُ الَّذِیْنَ عَلٰی رَأْیِہٖ۔کسی آدمی کے ساتھی اور وہ لوگ جو اس کے خیال کے مطابق ہوں۔وَمِنْہُ فِی الْقُرْاٰنِ اُوْلٰٓئِکَ حِزبُ الشَّیْطَانِ اور انہی معنوں میں قرآن کریم میں حِزْبُ الشَّیْطَانِ کے الفاظ آئے ہیں۔وَکُلُّ قَوْمٍ تَشَاکَلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاَعْمَالُھُمْ فَہُمْ اَحْزَابٌ وَاِنْ لَّمْ یَلْقَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔اور تمام وہ لوگ جن کے دلی خیالات اور اعمال ہم رنگ ہوں۔احزاب کہلاتے ہیں خواہ ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھا بھی نہ ہو۔(اقرب) مِرْیَۃٌ۔اَلْمِرْیَۃُ اِسْتِخْرَاجُ مَاعِنْدَ الْفَرَسِ مِنَ الْجَرْیِ گھوڑے کو جس قدر اس کی طاقت تھی دوڑایا۔اَلْمِرْیَۃُ وَالْمُرْیَۃُ اَلشَّکُّ شک۔وَیَقُوْلُوْنَ مَافِیْہِ مِرْیَۃٌ اَیْ جَدَلٌ کہتے ہیں کہ ا س میں مریہ نہیں ہے یعنی اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔(اقرب) تفسیر۔قرآن شریف اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پرکھنے کے لئے تین گر بتائے گئے ہیں۔اور فرمایا ہے کہ جس میں یہ تین باتیں پائی جائیں وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔اَفَمَنْ كَانَ کا جواب کَمَنْ ھُوَکَاذِبٌ محذوف ہے۔یعنی کیا اوپر کی صفات والا شخص جھوٹوں کے زمرہ میں شامل ہوسکتا ہے؟ یا یہ کہ جو ایسا ہوکیا وہ اپنے مخالف کی طرح ہوسکتا ہے۔اور اس صورت میں یوں عبارت ہوگی۔أَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ کَمَنْ لَّیْسَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ۔یہ عربی کا قاعدہ ہے کہ عام طور پر ایسے فقروں میں جواب کے حصے کو حذف کر دیا کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر تین قسم کے گواہ دنیا میں اس سچائی سے تعلق رکھنے والے تین قسم کے لوگ ہوسکتے ہیں۔(۱) ایک وہ جو اس وقت اس کے مخاطب ہوں۔(۲) وہ جو اس وقت تو مخاطب نہ ہوں لیکن آئندہ مخاطب بننے والے ہوں۔(۳) تیسرے وہ لوگ جو پچھلے زمانہ میں گذر چکے ہوں۔لیکن وہ اس آنے والے تغیر کی امید رکھتے تھے اگر ان تینوں قسم کے گواہوں سے کسی امر کی سچائی ثابت ہو تو اس سچائی میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ تینوں کے تینوںز مانے اس کے حق میں گواہی دیتے ہیں۔جو لوگ کسی صداقت کے منتظر ہوں لیکن ابھی وہ صداقت ظاہر نہ ہوئی ہو ان کے ایمان کی بنیاد خالص طور پر امور غیبیہ پر ہوتی ہے۔اور جن لوگوں کے