تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 229
چونکہ ان کا بدلہ مل چکا ہوگا۔اس لئے اب وہ کام نہ آسکیں گے اور دوسری صورت میں یعنی آخرت کی طرف ضمیر پھیرنے کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ دنیا کے کام چونکہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے ماتحت تھے ان کا بدلہ تو مل گیا مگر اخروی کام چونکہ مقررہ قوانین کے خلاف تھے بوجہ ناقص ہونے کے فائدہ نہیں دیں گے۔اور جس مقصد کے لئے تھے وہ حاصل نہ ہوگا۔اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ پس کیا جو (شخص) اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر (قائم) ہے اور (اس کی صداقت کا) ایک گواہ اس مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓىِٕكَ (یعنی خداوند تعالیٰ)کی طرف سے (آکر) اس کی پیروی کرے گا اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی جو (لوگوں يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ کے لئے) امام اور رحمت تھی( ایک جھوٹے مدعی جیسا ہو سکتا ہے ؟) وہ( یعنی موسیٰ کے سچے پیرو )اس پر (بھی ضرور) مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ایمان لاتے ہیں اور ان( مخالف) گروہوں میںسے جو کوئی اس کا انکار کرے گا تو (دوزخ کی) آگ اس کے وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۱۸ (لئے) وعدہ کی جگہ ہے۔پس (اے مخاطب) تو اس کےمتعلق کسی( قسم کے) شک میں نہ پڑ۔وہ یقیناً بالکل حق ہے(اور) تیرے رب کی طرف سے (ہے) لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لایا کرتے۔حلّ لُغَات۔اِمَامٌ اَلْاِمَامُ مَنْ یُؤْتَمُّ بِہٖ جس کی اقتداء کی جائے۔لِلْمُذَکَّرِ وَالْمُؤْنَّثِ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔وَمِنْہُ قَامَتِ الْاِمَامُ وَسَطَھُنَّ کہتے ہیں (عورتوں کی) امام نماز میں ان کے درمیان کھڑی ہوئی۔مَاأُمْتُثِلَ عَلَیْہِ الْمَثَالُ۔جس چیز کو کسی کام کے کرنے میں نمونہ ٹھہراکر اس کے مطابق کام کیا جائے۔اس لفظ کے اور معنی بھی ہیں جو یہاں چسپاں نہیں ہوتے۔مگر معنوں کے سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں اور