تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 228
چاہیے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے دنیا کا ملنا دین کے حصول پر منحصر نہیں۔دین سے بیگانہ ہوکر بھی انسان دنیا حاصل کرسکتا ہے۔کیونکہ حصول دنیا کے لئے بعض اور قواعد بھی ہیں۔یعنی اس کے حصول کے لئے اصول طبعیات کے مطابق کوشش کرنا۔پس دنیا کا ملنا بغیر دوسرے نشانات کی شمولیت کے خدا رسیدہ ہونے کی علامت نہیں ہے۔ہاں !یہ شرط لگائی گئی ہے کہ خالص دنیوی اعمال کا بدلہ ہر انسان کو اس دنیا میں ملتا ہے لیکن جن اعمال میں دین کو شامل کرلیا گیا ہو مگر خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق وہ عمل نہ ہوں ان کا بدلہ نہیں ملتا۔اَعْمَالَهُمْ فِيْهَاسے اسی طرف اشارہ ہے۔دنیا میں انہماک کی سزا بصورت عذاب دنیا میں نہیں دی جائے گی لَا يُبْخَسُوْنَ یعنی دنیاوی اعمال میں ان پر کوئی عیب نہ لگایا جائے گا۔یا یہ کہ اگر وہ ظلم نہ کریں گے تو اس دنیا میں ان پر کوئی عذاب نہ آئے گا۔خواہ وہ دین کی طرف توجہ نہ کریں۔عذاب دینی امور میں اسی وقت آتا ہے جب استہزاء اور شرارت کو استعمال کیا جائے۔خالی انکار پر اس دنیا میں عذاب نہیں آتا۔کیونکہ اصل دارالجزاء دوسرا جہان ہے۔اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَ یہ وہ( لوگ) ہیں جن کے لئے آخرۃ میں (دوزخ کی) آگ کے سوا (اور) کچھ نہیں ہو گا اور جو کچھ انہوں نے اس حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۷ (ورلی زندگی) کی خاطر کیا ہوگا وہ( آخرت کے حق میں بالکل) بے سود ہو جائے گا اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہوں گے وہ اکارت ہو جائے گا۔حلّ لُغَات۔حَبِطَ حَبِطَ الْعَمَلُ حُبُوْطًا وَحَبْطًا فَسَدَوَھَدَرَ۔بے فائدہ اور بے ثمرہ ہو گیا اکارت ہو گیا۔مَاءُ الْبِئْرِ ذَھَبَ ذَھَابًا لَایَعُوْدُ کَمَاکَانَ۔کوئیں کا پانی ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا جاتا رہا۔(اقرب) بَطَل بَطَلَ فَسَدَ اَوْسَقَطَ حُکْمُہٗ خراب ہو گیا۔اکارت ہو گیا۔کالعدم ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔یہ آیت فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ کے جواب میں ہے کہ تم جو دین کی طرف رغبت نہیں کرتے اگر تم مسلمان نہ ہوگے تو دنیا کے سامان تو تمہیں مل جائیں گے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہیں کوئی ترقی نہ ملے گی۔مَا صَنَعُوْا فِيْهَا کی ضمیر مجرور کا مرجع مَا صَنَعُوْا فِيْهَا میں ضمیر مؤنث الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا کی طرف بھی پھیری جاسکتی ہے۔اور آخرۃ کی طرف بھی۔پہلی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ دنیا میں جو دنیا کی خاطر کام کئے ہوں گے