تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 218
ہے۔اول سورۂ بقرہ ع۳ کی آیت وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ہے دوم سورۂ یونس میں فرمایا ہےاَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔یونس ع۴۔سوم یہ زیر تفسیر آیت ہے کہ اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔چہارم سورۂ بنی اسرائیل ع۱۰ میں آتا ہےقُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا۔پنجم سورئہ طور ع۲ میں آیا ہےاَمْ يَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ۔ان مطالبات میں مقدار مطلوبہ کے اختلاف کی وجہ ان پانچ جگہوں میں سے دو جگہ پر تو ایک ہی قسم کا مطالبہ ہے۔باقی تین جگہ میں علیحدہ علیحدہ مطالبے کئے گئے ہیں۔چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل میں سارے قرآن کریم کی مثل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ اگر سارے جن و انس بھی اکٹھے ہوجائیں تو قرآن کریم کی مثل نہیں لاسکیں گے۔یہاں سورۂ ہود میں دس سورتوں کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو دس سورتیں اپنے پاس سے بنا کر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے شائع کرو۔سورۂ بقرہ اور سورۂ یونس میں ایک سورۃ کا مطالبہ ہے۔اور سورۂ طور میں ایک سورۃ کی بھی شرط نہیں ہے۔خواہ وہ ایک بات ہی بنا کر لے آئیں۔اب بظاہر یہ بات عجیب نظر آتی ہے کہ کہیں سارے قرآن کا مطالبہ ہے کہیں دس سورتوں کا ہے اور کہیں ایک سورۃ کااور کہیں ایک ہی بات پر اکتفاء کی گئی ہے۔اور طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کیوں ہے۔بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ترتیب نزول کے لحاظ سے ایسا ہوا ہے۔پہلے سارے قرآن کی مثل کا مطالبہ کیا۔جب وہ نہ لاسکے تو دس سورتوں کا مطالبہ کیا۔جب وہ بھی نہ لاسکے تو پھر فرمایا ایک سورۃ ہی لے آؤ۔جب وہ بھی نہ لاسکے تو پھر فرمایا کہ کچھ ہی لے آؤ۔خواہ ایک بات ہی ہو۔اس اختلاف کا تدریجی نزول پر مبنی ہونا ثابت نہیں ہوتا میرے نزدیک اس میں کچھ اشتباہ معلوم ہوتا ہے۔اس لئے کہ ان سورتوں میں سے کہ جن میں اس مضمون کا ذکر آیا ہے نزول کے لحاظ سے سب سے پہلے سورہ طور ہے اور اس میں قرآن کریم کی بجائےبِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖۤ ہے۔یعنی اس جیسا کوئی کلام لے آؤ۔اور شرط ایک سورۃ کی بھی نہیں رکھی گئی۔خواہ وہ کلام ایک سورۃ سے بھی کم ہو۔پس عقلاً یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ سورہ طور میں تو پہلے بغیر مقدار مقرر کرنے کے مثل کا مطالبہ کیا گیا ہو اور اس کے بعد سورۂ بنی اسرائیل میں پورے قرآن کا مطالبہ کیا گیا ہو اور