تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 216
ملے گا۔تیرا تو کیا ذکر ہے تیرے غلام بھی بادشاہ ہوں گے ہر اک غیر متعصب انسان دیکھ سکتا ہے کہ یہ دونوں باتیں پوری ہوئیں یا نہیں۔اسلام کی ترقیات کے راستہ سے سب روکیں ملائکہ نے دور کردیں یا نہیں۔اور اس طرح مغفرۃکامل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی یا نہیں۔اسی طرح کیا آپ کو اور آپ کے خدام کو جو دیر تک دنیا کے عذابوں پر صبر سے کام لیتے رہے تھے آخر اجرکبیر مل کر رہا کہ نہیں؟ آنحضرت قرآن کریم کے کسی حصہ کو چھوڑنے والے نہیں تھے افسوس ہے کہ اسلام کے دشمن اس آیۃ سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کے اعتراضوں سے ڈر کر بعض حصہ قرآن کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔حالانکہ سیاق و سباق اس آیت کا ان معنوں کو رد کررہا ہے۔کیا کوئی عقلمند بھی خیال کرسکتا ہے کہ فرشتوں یا خزانہ کا مطالبہ کوئی ایسا اعتراض تھا کہ اس سے ڈر کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کلام الٰہی کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوجاتے اور کیا اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ دو ایسی باتیں ہیں کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر سے اوجھل تھیں یا یہ وہ باتیں ہیں جو دشمنان اسلام کی نظر سے اوجھل تھیں؟ اس آیت میں کفار کی طمع کا ذکر ہے اگر صرف کفار کی نظر سے یہ امور اوجھل تھے تو انہی کی طمع کا اس آیت میں ذکر ہے نہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طمع کا۔کیا معترضین یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش نے خاص وفد کے ذریعہ سے یہ درخواست کی کہ یا تو آپ ان سے سمجھوتہ کرلیں یا پھر وہ آپ کو اور آپ کے رشتہ داروں کو پیس ڈالیں گے تو اس وقت آپ نے یہ جواب دیا کہ اگر سورج کومیرے دائیں اور چاند کو بائیں لاکر کھڑا کردو تب بھی میں خدا تعالیٰ کی تعلیم کو نہیں چھوڑ سکتا(السیرة النبویة لابن ہشام زیر عنوان مباداۃ رسول اللہ قومہ۔۔۔۔۔)۔پھر کیا ان دولغو اعتراضوں سے آپ ایسے متاثر ہوسکتے تھے کہ کلام الٰہی کو چھپانے کے لئے تیار ہوجاتے؟ اگر اس سے اگلی آیت پر غور کیا جائے تو وہ بھی اسی بیہودہ خیال کی تردید کرتی ہے۔کیونکہ اس میں ساری دنیا کو چیلنج دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی کسی دس سورتوں کی مثل لے آؤ۔اگر آپ کے دل میں شک ہوتا تو کیا اس کے ذکر کے ساتھ ہی یہ چیلنج دیا جاسکتا تھا؟ یہ چیلنج تو بتاتا ہے کہ آپ کے دل میں قرآن کریم کی صداقت کا یقین پہاڑ سے بڑھ کر راسخ تھا۔