تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 213

تفسیر۔خوشی یا غم کا اثر منکرین الہام سے دور جا پڑنے والے لوگوں پر یہ دونوں غلط نقطہ نگاہ اس قوم کے افراد کے ہوجاتے ہیں۔جو الہام الٰہی سے دور جاپڑتی ہے۔اور ایسا شخص باوجود اس بات کے دیکھنے کے کہ دنیا کے حالات ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالتا کہ کسی خاص حالت کے ماتحت یہ تبدیلی ہوئی ہوگی بلکہ جو حالت بھی پیدا ہوجاتی ہے اس کو اپنے نفس پر غالب آنے دیتا ہے۔اگر تکلیف پہنچے تو ناامید ی کو اپنے اوپر غالب آنے دیتا ہے۔اگر خوشی ہو تو غرور کو۔اس کی یہی وجہ ہے کہ اس نے ازلی قانون کو نہیں سمجھا۔یعنی یہ کہ یہ دنیادار الابتلاء ہے۔اور خدا تعالیٰ انسانی دماغ کی دونوں حالتوں کا امتحان لینا چاہتا ہے۔اور دیکھتا ہے کہ اس پر خوشی کا کیا اثر ہوتا ہےا ور غمی کا کیا۔اور ان دونوں حالتوں میں سے گذار کر اس کی روحانی حالت کو کمال تک پہنچانا چاہتا ہے۔لیکن ایسا شخص چونکہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتا اس لئے اس پر جو حالت بھی آئے بجائے اس سے سبق حاصل کرنے کے وہ اس کو اپنے اوپر غالب آنے دیتا ہے۔اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سوائے ان لوگوں کے جو صبر (اختیار) کریں اور نیک اور مناسب حال اعمال کریں یہ وہ( لوگ) ہیں جن کے لئے مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِيْرٌ۰۰۱۲ بخشش اور(بہت) بڑا اجر (مقدر) ہے۔تفسیر۔خوشی اور اندوہ کا اثر مومنوں پر یعنی مومنوں کی حالت اوپر کی حالت کے خلاف ہوتی ہے۔وہ غم اور خوشی کو اپنے نفس پر غالب نہیں آنے دیتے۔بلکہ غم اور خوشی کو خود اپنے تابع رکھتے ہیں۔جب غم آتا ہے تو بجائے گھبرانے اور مایوس ہونے کے صبر سے کام لیتے ہیں اور بہادری سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور مخالف اسباب کو دور کرنے کے لئے ہمت سے کوشش کرتے ہیں۔اور جب خوشی کے ایام آتے ہیں تو بجائے فخر کرنے اور اترانے کے وہ ان نعمتوں کے ذریعہ سے جو ان کو ملتی ہیں نیکی اور تقویٰ میں اور بھی ترقی کر جاتے ہیں اور نیک اعمال کے ذریعہ سے ان نعمتوں سے دوسرے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔مومنین کے اعمال کی جزاء لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِيْرٌ میں مومن کی صحیح جزاء بتائی ہے۔چونکہ مومن تکالیف پر صبر سے کام لیتا ہے اور تکالیف غلطیوں یا بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں پہنچتی ہیں اس لئے اس کے صبر کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ