تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 211
لَزِمَہُمْ وَوَجَبَ عَلَیْہِمْ۔بات ان کے لازم حال ہو گئی۔اور ان سے چمٹ گئی۔حَاقَ بِھِمْ الْعَذَابُ۔نَزَلَ وَاَحَاطَ۔عذاب نازل ہو گیا اور اس نے ان کا احاطہ کرلیا۔(اقرب) تفسیر۔لوگ دنیا کے عذابوں کے متعلق دھوکے میں ہیں فرمایا یہ لوگ جس طرح مابعد الموت کے متعلق دھوکہ میں ہیں اسی طرح دنیا کے عذابوں کے متعلق بھی دھوکہ خوردہ ہیں۔اور اگر عذاب میں تاخیر ہوجائے تو اعتراض کرنے لگتے ہیں حالانکہ اگر یہ سوچتے تو یہ بات ظاہر تھی کہ دارالابتلاء تو لازماً ڈھیل کو چاہتا ہے۔اگر ڈھیل نہ ہو تو پھر یہ دنیا دارالجزاء ہوجائے۔دارالجزاء کے وجود کا اقرار مخالفین کے منہ سے عجیب بات ہے کہ دنیا کے لوگ ایک طرف تو دارالجزاء سے انکار کرتے ہیں اور دوسری طرف انبیاء کے مقابلہ میں قطعی عذاب کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔اور اس طرح خود ہی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایک دارالجزاء کا ہونا ضروری ہے۔مطالبہ عذاب سے کفار کا مقصود ہنسی ہے وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ سے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ عذاب کے مطالبہ سے مراد ان کی فی الواقع عذاب کا طلب کرنا نہیں بلکہ ہنسی کرنا مقصود ہے۔ان کی یہ ہنسی انہیں پر الٹ کر پڑے گی اور عذاب کو فی الواقع قریب کر دے گی۔وَ لَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے (کسی قسم کی) رحمت (کا مزا) چکھائیں (اور) پھر اسے اس سے ہم ہٹا لیں تووہ اِنَّهٗ لَيَـُٔوْسٌ كَفُوْرٌ۰۰۱۰وَ لَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ یقیناً یقیناً (اور پھر)یقیناً نہایت ناامید (اور) نہایت ناسپاس ہو جاتاہے اور اگر ہم کسی مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی مَسَّتْهُ لَيَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ ہواسے (کسی بڑی) نعمت (کا مزا) چکھائیں تو وہ یقیناً یقیناً (اور پھر) یقیناً کہنے لگتاہے کہ( اب میری )تمام تکلیفیں مجھ