تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 206
جانوروں کے کام آتا ہے۔اگر گیہوں کے دانہ سے گیہوں ہی نکلتی تو انسان شاید جانور کا خیال کم ہی رکھتا۔بعض چیزیں ایسی بنادی ہیں کہ ایک کے لئے مضر اور دوسرے کے لئے نفع رساں ہوتی ہیں۔کانٹے دار جھاڑیاں اور درخت اونٹوں کی غذا ہیں اور نجاست بھیڑوں کے کام آجاتی ہے۔انسانی جسم میں پیدا ہونے والے کیڑوں کے لئے اسی جگہ غذا موجود ہے۔غرض ہر جنس کے لئے الگ الگ قسم کی غذا ہے۔حتیٰ کہ شکاری جانوروں کی غذائیں بھی مختلف ہیں۔کوئی کسی قسم کا جانور کھاتا ہے کوئی کسی قسم کا۔کروڑوں بلکہ اربوں قسم کے جانور مختلف اقسام کی غذائیں کھاتے ہیں۔اور انسان جو قانونِ قدرت کے راز کے ظاہر کرنے کا مدعی ہے ابھی تک ان جانوروں سے بھی پورے طور پر واقف نہیں کجا یہ کہ ان کی غذاؤں سے واقف ہو۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لئے غذاؤں کے سامان مقرر کر چھوڑے ہیں۔مُسْتَقَرْ اور مُسْتَوْدَعْ کے ذکر سے مقصود مُسْتَقَرْ اور مُسْتَوْدَعْ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ مُسْتَقَرْ ہمیشگی کے رہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔اور مُسْتَوْدَعْ عارضی رہائش کی اور غذا وہی مہیاکرسکتا ہے جو غذا کے حاجتمند کے رہنے کی جگہ جانتا ہو۔اور پھر صحیح غذا وہی مہیا کرسکتا ہے جو کسی چیز کی قوتوں کے منتہا سے واقف ہو۔پس فرمایا کہ جو ہستی مُسْتَقَرْ اور مُسْتَوْدَعْ کا علم رکھے وہی غذا مہیا کرسکتی ہے اور مناسب غذا تجویز کرسکتی ہے۔فِیْ کَتَابٍ مُّبِیْنٍ کے معنی كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اشیاء آپ ہی آپ نہیں ہیں۔بلکہ ان کی غایت اور منزل مقصود اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص ارادوں کے ماتحت مقرر کی گئی ہے۔ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ نے روحانی رزق مہیا نہ کیا ہو اس آیت سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب رزق کے سامان اللہ تعالیٰ ہی مہیا کرتا ہے اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانوروں کی ادنیٰ سے ادنیٰ ضرورت حقہ کو پورا کرتا ہے۔تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس نے اس اعلیٰ مخلوق کے لئے جو پیدائش کا منتہا ہے وہ رزق مہیا نہ کیا ہو جس سے اسے دوسری مخلوقات پر فضیلت ہے۔یعنی روحانی اور اخلاقی قابلیتوں کے نشوونما کے لئے کوئی تعلیم نہ دی ہو۔یہ عقل کے خلاف ہے کہ جس وقت انسان ایک خون کا لوتھڑا تھا اس وقت تو اس کی ضرورتوں کو پورا کیا لیکن جب وہ کامل انسان بنا اور اسے اپنی روحانی اور اخلاقی حالتوں کی رہنمائی کی ضرورت پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔پس یقیناً اللہ تعالیٰ نے انسان کی روحانی تربیت کے سامان پیدا کئے ہیں۔آگے انسان ان سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔رَزَّاق وہی ہو سکتا ہے جو مُسْتَقَرْ وَ مُسْتَوْدَعْ کا علم رکھتا ہو اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ