تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 205

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ يَعْلَمُ اور زمین میں ایساکوئی بھی جاندار نہیں ہے کہ جس کا رزق اللہ (تعالیٰ) کے ذمہ نہ ہو۔اور وہ اس کی قرار گاہ کو اور اس کی مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۰۰۷ حفاظت کی جگہ کو جانتا ہے۔(یہ)سب (کچھ) ایک واضح کر دینے والی کتاب میں (موجود) ہے۔حلّ لُغات۔الدَّ آ بَّۃُ اَلدَّآبَّۃُ مَادَبَّ مِنَ الْحَیَوَانِ۔ہر حیوان جو زمین پر چلتا ہے اسے دابۃ کہتے ہیں۔وَغَلَبَ اِسْتِعْمَالُھَا عَلٰی مَا یُرْکَبُ وَیُحْمَلُ عَلَیْہِ الْأَحْمَالُ وَالْھَاءُ فِیْھَا لِلْوَحْدَۃِ کَمَا فِی الْحَمَامَۃِ۔اور اس کا استعمال اکثر ان جانوروں کے لئے ہوتا ہے جن پر سواری کی جاتی ہے یا بوجھ لادا جاتا ہے وَیَقَعُ عَلَی الْمُذَکّرِوَ الْمُؤَنَّثِ۔اور مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔اور اس کے آخر میں جو ہَا ہے یہ مفرد کی ہے نہ کہ مونث کی۔جس طرح حَمَامَۃٌ (کبوتر وغیرہ) میں ھَا مفرد کے لئے اور اس لفظ کی جمع دَوَآبُّ آتی ہے۔(اقرب) مُسْتَقَرٌّ۔اَلْمُسْتَقَرُّ مَوْضِعُ الْاِسْتَقْرَارِ۔قرار پکڑنے کی جگہ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَھَا اَیْ لِمَکَانٍ لَاتُجَاوِزُہ وَقْتًا وَ مَحَلًّا۔یعنی وہ جگہ یا وقت جس سے سورج آگے نہیں نکل سکتا۔اَلنِّہَایَۃُ وَالْغَایَۃُانتہاء اور منزل مقصود۔(اقرب) مُسْتَوْدَعٌ اِسْتَوْدَعَ مَالًا۔اِسْتَحْفَظَہٗ اِیَّاہُ۔حفاظت کے لئے مال اس کو دیا۔یعنی اس کے پاس رکھا۔المُسْتَوْدَعُ مَکَانُ الْوَدِیْعَۃِ وَالْحِفْظِ۔وہ جگہ جس میں کوئی چیز بطور امانت و حفاظت رکھی جائے۔مَکَانُ الْوَلَدِ مِنَ الْبَطْنِ پیٹ میں بچہ کی جگہ یعنی رحم مادر۔(اقرب) تفسیر۔اللہ تعالیٰ کی رزق رسانی یعنی اللہ تعالیٰ ہی سب کے لئے رزق کے سامان مہیا کرتا ہے۔آگے ان کا استعمال کرنا نہ کرنا ان کے اختیار میں ہوتا ہے۔زمین کے اندر کے کیڑے یا شہروں میں رہنے والے جانور یا جنگلوں کے درندے سب کے لئے سامان بہم پہنچائے ہوئے ہیں۔انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس قدر کیڑے مکوڑے کہاں سے رزق حاصل کرتے ہوں گے۔مگر سب کے لئے سامان موجود ہے۔حتیٰ کہ بعض کیڑوں کے رزق تک سے انسان ناواقف ہے اور نہیں جانتا کہ ان کا رزق کیا ہے۔انسانی کھیتی کو ہی دیکھ لو۔اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی جانوروں کا خیال رکھا ہے۔اگر گیہوں انسان کے لئے پیدا کی ہے تو ساتھ ہی بھوسہ بھی رکھا ہے۔جو