تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 204

دیتے اس وجہ سے ان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ہدایت کے لئے ضروری ہے کہ انسان ان امور کو بیان کرے جو اس کے لئے صداقت کو قبول کرنے میں اصل روک ہیں۔کیونکہ جب تک اصل روک دور نہ ہو ہدایت نہیں مل سکتی۔یہ عیب اکثر لوگوں میں دیکھا گیا ہے کہ کسی مسئلہ پر بحث کرتے وقت وہ اس کے متعلق جو اصل روک ہوتی ہے اسے توظاہر نہیں کرتے اور ادھر ادھر کی بحثیں کرتے رہتے ہیں۔اس وجہ سے ان بحثوں کے ختم ہونے پر بھی وہ وہیں کے وہیں رہتے ہیں جہاں ابتداء میں تھے۔دوسری بات ان کے متعلق یہ بتائی ہے کہ یہ لوگ یہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے دل کی حالت بھی نہ بدلے اور اس کے لئے یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ بات ہی نہیں سنتے اور جو یہ کوشش کرے گا کہ بات ہی نہ سنوں وہ ہدایت کس طرح پائے گا۔یہ مرض پہلی مرض سے بھی زیادہ سخت ہے۔اپنی حالت کو قائم رکھنے کے لئے اکثر لوگ صداقت کے ظاہری آثار سے متاثر ہوکر اس بات کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ نہ دین کی باتوں کو خود سنیں اور نہ ان کے دوست سنیں۔انہیں بھی یہ کہہ کر روکتے رہتے ہیں کہ یہ لوگ جادو کردیتے ہیں۔ان کی باتوں کو نہ سنو۔حالانکہ جب تک انسان کوئی بات سنے گا نہیں ہدایت کس طرح پاسکے گا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا واسطہ عالم الغیب ہستی سے ہے۔کیا اس حالت میں انہیں یہ عذر کام دے سکتا ہے کہ ہم پر حجت پوری نہیں ہوئی؟ جو کوشش کرتا ہے کہ مجھ پر حجت پوری نہ ہو۔اس پر حجت پوری ہوچکی اور وہ عدم علم یا عدم تسلی کا عذر نہیں پیش کرسکتا۔عذر وہی پیش کرسکتا ہے کہ جو اپنی طرف سے سمجھنے کی پوری کوشش کرچکتا ہے یا وہ لوگ پیش کرسکتے ہیں جن تک ان کی اپنی کوشش کے باوجود بات نہ پہنچی ہو۔یہ بھی مراد ہے کہ ان کی پوشیدہ عداوتوں کو بھی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور ظاہر کو بھی۔ذَاتِ الصُّدور سے مراد ذَاتِ الصَّدُوْرِ سے مراد دلی خیالات اور ارادے ہیں کیونکہ صدر سے مراد اعلیٰ چیز ہوتی ہے اور انسان کے جسم میں سب سے بلند مقام اس کے ارادوں اور اس کے خیالات کو حاصل ہے کیونکہ انہی کے ماتحت اس کے اعمال ہوتے ہیں۔اس میں یہ بتایا ہے کہ ان لوگوں کی قلبی کیفیتوں سے اللہ تعالیٰ واقف ہے۔اور اسی کا اندازہ لگا کرا س نے اپنا مامور بھیجا ہے۔پس ان کا یہ دعویٰ فضول ہے کہ ہمیں کسی مصلح کی کیا ضرورت ہے؟ ترتیب اس آیت کا تعلق پہلی آیتوں سے یہ ہے کہ ان میں ترقیات روحانیہ کا گر بتایا تھا اور ان روکوں کا ذکر کیا تھا جو بلاارادہ انسان کے راستہ میں آجاتی ہیں اور ان کے دور کرنے کا ذکر کیا تھا۔اس آیت میں ان روکوں کا ذکر کیا ہے جو انسان خود اپنے لئے پیدا کرلیتا ہے اور جن کا دور کرنا خود اس کے ارادہ اور کوشش سے متعلق ہے۔