تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 203

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۵ اللہ (تعالیٰ) کی طرف تم (سب) کو واپس لوٹنا ہے۔اور وہ ہر چیز پر کامل طور پر قدرت رکھنے والا ہے۔تفسیر۔یعنی آخر اس سے معاملہ پڑنا ہے۔پھر کیوں اس کی ملاقات کی تیاری نہیں کرتے؟ دوسرے وہ ہر اک امر پر قادر ہے۔یعنی سزا پر بھی اور انعام پر بھی۔پھر کیوں اس کے انعام کے حصول کی کوشش نہیں کرتے؟ اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا سنو !وہ یقیناً اپنے سینوں کو اس لئے موڑتے رہتے ہیں کہ اس سے چھپےرہیں۔سنو! جس وقت وہ اپنے کپڑے حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَهُمْ١ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا اوڑھتےہیں( تو اس وقت بھی) جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں اسے وہ جانتا (ہوتا) ہے وہ یقیناً يُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۰۰۶ سینوں کی باتوں کو (بھی) خوب جانتاہے۔حلّ لُغَات۔ثَنَی ثَنَی الشَّیْءَ ثَنْیًا۔عَطَفَہٗ۔اس کو موڑ دیا۔چکر دیا۔(اقرب) تھیلے کا منہ موڑنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی چیز اس میں سے باہر نہ نکلے۔پس استعارۃً اس کے یہ معنی ہیں کہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے دلی خیالات ظاہر نہ ہوں۔اِسْتِغْشَاءٌ اِسْتَغْشٰی ثَوْبَہٗ۔وَبِثَوْبِہٖ اِسْتِغْشَاءً تَغَطّٰی بِہٖ۔کپڑے کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھانپ لیا اور محاورہ ہے کہ اِسْتَغْشِ ثَوْبَکَ کَیْ لَایُسْمَعُ وَلَا یُرٰی۔اپنا کپڑا اوڑھ لے کہ نہ کچھ دیکھے نہ کچھ سنے۔(اقرب) یہ محاورہ اس وقت استعمال کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص کوشش کرے کہ میں دوسرے کی بات نہ سنوں نہ اس کی حالت دیکھوں۔تفسیر۔کفار کی ہدایت سے محرومی کے اسباب اس جگہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی دو حالتوں کا ذکر کیا ہے جو انہیں ہدایت سے محروم کررہی ہیں۔اول یہ کہ وہ اپنے خیالات کو چھپاتے ہیں اور انہیں ظاہر ہونے نہیں