تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 202

کہ جن کی وجہ سے خدا تک پہنچنا تمہارے لئے ناممکن ہو گیا ہے تو ان کو دور کرنے کا یہ طریق ہے کہ پہلے تم اپنے رب سے غفران مانگو۔یعنی گناہوں کی وجہ سے جو تمہارے دلوں پر زنگ لگ گئے ہیں اور وہ خدا تک تمہیں نہیں پہنچنے دیتے ان کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی اعانت طلب کرو۔اور اس سے دعائیں کرو کہ وہ تمہارے زنگوں کو دور کردے۔دوسرے معنی استغفار کے دبادینے کے ہیں۔ان معنوں کے رو سے اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ان جذبات کے دبانے کی دعا مانگو جو خدا تک پہنچنے میں روک بن جاتے ہیں۔پھر اس کے بعد فرمایا ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَیْہِ۔یعنی جب وہ جذبات دب جائیں تو اس کے بعد خدا کی محبت پیدا کرنے کے لئے اس کی طرف توجہ کرو۔اس طرح خدا تک پہنچنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا۔اس مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والے جذبات جب مٹ جائیں تب اس کی طرف انسان جاسکتا ہے۔بغیر ایسے جذبات کے دبانے اور پرانے اثر کے مٹانے کے خدا کی کامل محبت نہیں پیدا ہوسکتی۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ توبہ کا مقام استغفار کے بعد کا مقام ہے۔وہ نادان جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلامی توبہ گناہوں کی زیادتی کا موجب ہے وہ دراصل اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں کیونکہ جو شخص گناہوں کے پچھلے اثر کے مٹانے اور جذبات کو دبانے میں لگا ہوا ہوگا اور اس کام سے فارغ ہوکر توبہ کی طرف توجہ کرے گا اس کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ صرف منہ سے توبہ توبہ کرے گا بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ توبہ منہ سے توبہ توبہ کرنے کا نام نہیں بلکہ گناہوں سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی طرف بہ تمام توجہ جھک جانے کا نام ہے اور اگر اس فعل سے خدا نہیں ملے گا تو اور کس چیز سے ملے گا؟ مَتَاع اور اَجلِ مسمّٰی سے مراد يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا سے بتایا ہے کہ اگر تم نبی کی بات مان لو گے تو دنیوی منافع بھی ملیں گے۔کیونکہ متاع عارضی نفع کو کہتے ہیں اور عارضی نفع سے مراد دنیا کا نفع ہے۔اور اَجَلٍ مُّسَمًّى سے مراد وہ زمانہ ہے جو نبی کی امت کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو۔فضل سے مراد وَ يُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ سے مراد دینی برکات ہیں۔خواہ اس دنیا میں ملیں خواہ اگلے جہان میں۔کبیر کے معنی کبیر کسی چیزکو بلحاظ وسعت کے بھی کہتے ہیں۔اور بلحاظ اس کی گرانی کے بھی۔پس مراد یہ ہے کہ اس تعلیم کو چھوڑ کر تم ایک لمبے عذاب میں مبتلا ہو جاؤگے۔جو ہوگا بھی ایسا سخت کہ اس کا برداشت کرنا مشکل ہوگا۔