تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 13

سورہ سجدہ کو بھی الٓمّٓ سے شروع کیا گیا ہے۔ان کے بعد سورہ احزاب، سبا، فاطر بغیر مقطعات کے ہیں۔اور گویا پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔ان کے بعد سورہ یٰسٓ ہے۔جس کو یٰسٓ کے حروف سے شروع کیا گیا ہے۔اس کے بعد سورہ صافات بغیر مقطعات کے ہے۔اس کے بعد سورہ صٓ حرف صٓ سے شروع کی گئی ہے۔پھر سورۂ زمر حروف مقطعات سے خالی اور پہلی سورت کے تابع ہے۔اس کے بعد سورہ مومن حٰمٓ سے شروع کی گئی ہے۔اس کے بعد سورہ حم سجدہ کو بھی حٰمٓ سے شروع کیا گیا ہے۔پھر سورہ شوریٰ کو بھی حٰمٓ سے شروع کیا گیا ہے لیکن ساتھ حروف عٓسٓقٓ بڑھائے گئے ہیں۔اس کے بعد سورۂ زخرف ہے اس میں بھی حٰمٓ کے حروف ہی استعمال کئے گئے ہیں۔پھر سورہ دخان، جاثیہ اور احقاف بھی حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں۔ان کے بعد سورہ محمد، فتح اور حجرات بغیر مقطعات کے ہیں اور پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔سورہ قٓ صرف ق سے شروع ہوتی ہے۔اور قرآن کریم کے آخر تک ایک ہی مضمون چلا جاتا ہے۔یہ ترتیب بتارہی ہے کہ یہ حروف یونہی نہیں رکھے گئے۔پہلے الٓمّٓ آتا ہے۔پھر الٓمّٓصٓ آتا ہے۔جس میں صٓ کی زیادتی کی جاتی ہے۔پھر الٓرٰ آتا ہے اور پھر الٓمّٓرٰ آتا ہے کہ جس میں میم کی زیادتی کی جاتی ہے پھرکٓہٰیٰعٓصٓ آتا ہےجس میں ص پر چار اور حروف کی زیادتی ہے۔پھر طٰہٰ لایا جاتا ہے اور پھر اس میں کچھ تبدیلی کرکے طٰسٓمٓ کر دیا جاتا ہے۔یہ ایک ہی قسم کے الفاظ کا متواتر لانا اور بعض کو بعض جگہ بدل دینا بعض جگہ اور رکھ دینا بتاتا ہے کہ خواہ یہ حروف کسی کی سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں جس نے انہیں رکھا ہے کسی مطلب کے لئے ہی رکھا ہے۔اگر یونہی رکھے جاتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ کہیں ان کو بدل دیا جاتا، کہیں زائد کر دیا جاتا، کہیں کم کر دیا جاتا۔مقطّعات کی دلالت کا اعتراف مخالفین اسلام کی طرف سے علاوہ مذکورہ بالا دلائل کے خود مخالفین اسلام کے ہی ایک استدلال سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ مقطعات کچھ معنی رکھتے ہیں۔مخالفین اسلام کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب ان کی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے ہے۔اب اگر یہ صحیح ہے تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود اس کے کہ سورتیں اپنی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے آگے پیچھے رکھی گئی ہیں۔ایک قسم کے حروف مقطعات اکٹھے آتے ہیں۔الٓمّٓ کی سورتیں اکٹھی آگئی ہیں۔الٓرٰ کی اکٹھی۔طٰہٰ اور اس کے مشترکات کی اکٹھی۔پھر الٓمّٓ کی اکٹھی۔حٰمٓ کی اکٹھی۔اگر سورتیں ان کے حجم کے مطابق رکھی گئی ہیں تو کیا یہ عجیب بات نہیں معلوم ہوتی کہ حروف مقطعات ایک خاص حجم پر دلالت کرتے ہیں۔اگر صرف یہی تسلیم کیا جائے تب بھی اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حروف مقطعات کے کچھ معنی ہیں۔خواہ یہی معنی ہوں کہ وہ سورت کی لمبائی اور چھوٹائی پر دلالت کرتے ہیں۔