تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 12

مقطعات بے معنی نہیں ہوتے میں فی الحال اس جگہ اختصاراً اتنی بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حروف مقطعات کے متعلق بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ بے معنی ہیں اور انہیں یونہی رکھ دیا گیا ہے۔مگر ان لوگوں کی تردید خود حروفِ مقطعات ہی کر رہے ہیں۔چنانچہ جب ہم تمام قرآن پر ایک نظر ڈال کر یہ کہتے ہیں کہ کہاں کہاں حروف مقطعات استعمال ہوئے ہیں تو ان میں ایک ترتیب نظر آتی ہے۔سورہ بقرہ الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے۔پھر سورۂ آل عمران الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے۔پھر سورۂ نساء، سورۂ مائدہ، سورۂ انعام حروف مقطعات سے خالی ہیں پھر سورۂ اعراف الٓمّٓصٓ سے شروع ہوتی ہے۔اور سورہ انفال اور براءۃ خالی ہیں۔ان کے بعد سورۂ یونس، سورۂ ہود، سورۂ یوسف الٓرٰسے شروع ہوتی ہیں۔اور سورۂ رعد میں م بڑھا کر الٓمٓرٰ کر دیا گیا ہے۔لیکن جہاں الٓمّٓصٓ میں صٓ آخر میں رکھا یہاں مٓ کو رٰ سے پہلے رکھا گیا ہے۔حالانکہ اگر کسی مقصد کو مدنظر رکھے بغیر زیادتی کی جاتی تو چاہیے تھا کہ میم کو جو زائد کیا گیا تھا راء کے بعد رکھا جاتا۔میم کو الٓرٰ کے درمیان رکھ دینا بتاتا ہے کہ ان حروف کے کوئی خاص معنی ہیں۔اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے الٓمّٓ کی سورتیں ہیں اور اس کے بعد الٓرٰ کی تو صاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ مضمون کے لحاظ سے میم کو راء پر تقدم حاصل ہے۔اور سورۂ رعد میں میم اور راء جب اکٹھے کر دیئے گئے ہیں تو میم کو راء سے پہلے رکھنا اس امر کو بالکل واضح کر دیتا ہے کہ یہ سب حروف خاص معنی رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے ان حروف کو جو معناً تقدم رکھتے ہیں ہمیشہ مقدم ہی رکھا جاتا ہے۔سورۂ رعد کے بعد ابراہیم اور حجر میں الٓرٰ استعمال کیا گیا ہے۔لیکن نحل بنی اسرائیل اور کہف میں مقطعات استعمال نہیں ہوئے۔اور یہ سورتیں گویا پہلی سورتوں کے مضامین کے تابع ہیں۔ان کے بعد سورۂ مریم ہے جس میں کٓہٰیٰعٓصٓ کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔سورۂ مریم کے بعد سورہ طٰہٰ ہے اور اس میں طٰہٰ کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔اس کے بعد انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان میں حروف مقطعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔گویا یہ سورتیں طٰہٰ کے تابع ہیں۔آگے سورۂ شعراء طٰسٓمٓ سے شروع کی گئی ہے گویا طاء کو قائم رکھا گیا ہے اور ھاء کی جگہ س اور میم لائے گئے ہیں۔اس کے بعد سورۂ نمل ہے۔جو طٰسٓ سے شروع ہوتی ہے۔اس میں سے میم کو اڑا دیا گیا ہے۔اور طاء اور س قائم رکھے گئے ہیں۔اس کے بعد سورہ قصص کی ابتداء پھر طٰسٓمٓ سے کی گئی ہے۔گویا میم کے مضمون کو پھر شامل کر لیا گیا ہے۔اس کے بعد سورۂ عنکبوت کو پھر الٓمّٓ سے شروع کیا گیا ہے اور دوبارہ علم الٰہی کے مضمون کو نئے پیرایہ اور نئی ضرورت کے ماتحت شروع کیا گیا ہے۔(اگرچہ میں ترتیب پر اس وقت بحث نہیں کررہا لیکن اگر کوئی کہے کہ الٓمّٓ دوبارہ کیوں لایا گیا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سورہ بقرہ سے الٓمّٓ کے مخاطب کفار تھے اور یہاں سے الٓمّٓ کے مخاطب مومن ہیں) سورہ عنکبوت کے بعد سورہ روم، سورہ لقمان اور