تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 198

تفسیر۔حکمت آیات کے معنی فرماتا ہے کہ اس کتاب کی آیتیں اپنے اندر حکمت رکھتی ہیں۔اور جو کچھ بھی اس میں بیان ہوا ہے وہ بدی سے روکنے والا اور نیکی کی طرف لے جانے والا ہے۔اور انسان کی پوشیدہ بدیوں سے اس کو آگاہ کرکے اس کی حقیقت سے اسے واقف کرتا ہے۔اور اس کلام میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں اور نہ کوئی ضرورت سے زائد بات ہے۔غرض تمام ضروری تعلیم بغیر فضول و لغو کے بقدر حاجت بیان کی گئی ہے۔اور ساتھ ہی پھر اس امر کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے کہ ہر اک قسم کی ضروری تفصیل بھی آگئی ہے۔اور فروعات کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔بلکہ بقدر ضرورت انہیں بھی بیان کیا گیا ہے۔تشابہت کی بجائے فُصِّلَتْ فُصِّلَتْ سے درحقیقت متشابہ تعلیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ (آل عمران:۸) اس سورہ آل عمران کی آیت میں محکم کے مقابلہ میں متشابہ کو رکھا ہے۔لیکن آیت زیرتفسیر میں متشابہات کی جگہ فصلت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔پس ظاہر ہے کہ یہ لفظ متشابہ کے معنوں کو واضح کرتا ہے۔اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متشابہ درحقیقت تفصیلی تعلیم کا ہی نام ہے اور یہی تعلیم ہے جس پر اعتراض کی دشمن کو جرأت ہوتی ہے۔ورنہ محکم یعنی اصولی تعلیم پر کوئی شخص حرف گیری نہیں کرسکتا۔مگر حق کے معلوم کرنے کا طریق یہی ہے کہ انسان تفصیلی تعلیم کو محکم کے ماتحت لاکر دیکھے اگر وہ اس کے ماتحت آجائے تو پھر اس پر اعتراض کرنے کی کوئی وجہ نہیں جیسے کہ مثلاً بعض لوگ اسلام کی بعض تفصیلی تعلیمات پر جو سزا کے متعلق ہیں اعتراض کرتے ہیں۔لیکن اگر وہ اسلام کی اصولی تعلیم کو دیکھیں جو یہ ہے کہ جس جگہ رحم سے فائدہ ہوتا ہو رحم کرو۔اور جس جگہ سزا سے وہاں سزا دو۔تو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔اب اگر وہ تفصیلی تعلیم کو دیکھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اسلام نے سزا کے موقع پر سزا تجویز کی ہے اور رحم کے موقعہ پر رحم۔اس لئے اس پر اعتراض خلاف اصول ہے۔مثلاً بعض حالات میں جنگ کی اجازت دی ہے اور یہ بات بظاہر معیوب نظر آتی ہے لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ جنگ بعض اوقات عدل و انصاف کے قیام کے لئے ضروری ہوتی ہے۔پس اس پر اعتراض درست نہیں ہوسکتا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ ایک ڈاکٹر کسی کا دانت نکالتا ہے جو بظاہر ظالمانہ فعل نظر آتا ہے اور رحم کے خلاف لیکن اگر حقیقت پر نظر کریں تو وہ عین رحم ہے اور آرام کا موجب۔مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ سے یہ بتایا ہے کہ اس کا منبع بھی اعلیٰ ہے۔اس لئے اس کی تمام تفاصیل پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔لفظ حَکِیْممیں اس کتاب کی پُرحکمت تعلیم کی طرف اشارہ ہے حَکِیْم اسے کہتے ہیں جو موقع