تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 193
يَضِلُّ عَلَيْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍؕ۰۰۱۰۹ راہ سے) بھٹک جائے تو اس کا بھٹکنا (بھی) اس (کی جان) پر ہی (ایک وبال )ہو گا۔اور میں کوئی تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔حلّ لُغَات۔وَکِیْلٌ۔اَلْوَکِیْلُ المَوْکُوْلُ اِلَیْہِ جس کے سپرد کوئی بات کر دی جائے۔وَقَدْ یَکُوْنُ لِلْجَمْعِ وَالْاُنْثٰی۔یہ لفظ واحد و جمع ہر دو کے لئے اور اسی طرح مذکر و مؤنث ہر دو کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔وَیَکُوْنُ بِمَعْنٰی فَاعِلٍ اِذَا کَانَ بِمَعْنَی الْحَافِظِ اور جب اس کے معنی حافظ یعنی نگہبان کے ہوں توا س وقت اسم مفعول کے معنی میں نہیں بلکہ اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے۔وُصِفَ بِہِ اللہُ تَعَالٰی اور انہی معنوں میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔وَقِیْلَ الْکَافِیُّ الرَّازِقُ اور بعض کہتے ہیں کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والے اور رازق کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔نبی محافظ نہیں ہوتا بلکہ مبلغ ہوتا ہے فرمایا کہ تمہاری ہدایت یا گمراہی سے میرا نفع یا نقصان نہیں۔کیونکہ میں تم پر محافظ کی حیثیت سے مقرر نہیں کیا گیا۔اگر میں نگران اور محافظ کی حیثیت سے مقرر ہوتا تو بے شک مجھ سے گرفت ہوتی کہ تم نے ان لوگوں سے فلاں فلاں باتوں پر عمل نہ کرایا اور فلاں فلاں باتیں نہ چھڑوائیں۔میں تو صرف مبلغ کی حیثیت رکھتا ہوں۔وَ اتَّبِعْ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ اور جو کچھ تیری طرف وحی کیا جاتا ہے تو اس کی پیروی کر اور صبر سے کام لے یہاں تک کہ اللہ( تعالیٰ) فیصلہ (صادر) خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَؒ۰۰۱۱۰ کردے۔اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔صَبَرَ۔صَبَرَفُلَانًا عَنِ الْاَمْرِ حَبَسَہٗ عَنْہُ فلاں شخص کو فلاں بات سے روک رکھا۔صَبَرْتُ نَفْسِیْ عَلٰی کَذَاحَبَسْتُہَا میں نے فلاں بات پر ثابت قدمی دکھائی۔تَقُوْلُ صَبَرْتُ عَلٰی مَا اَکْرَہُ وَصَبَرْتُ عَمَّااُحِبُّ یعنی جب صَبَرَ کا صلہ علیٰ ہو تو اس کے معنی کسی امر پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں اور جب