تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 192
چٹان پر کھڑا ہوں۔اور مجھے کامل محبت الٰہی دی گئی ہے۔میرے ذہنی افکار تیز ہو گئے ہیں۔اور ہر نفع و ضرر کے متعلق غیر اللہ کا پردہ میری آنکھ پر سے اٹھ گیا ہے۔گویا ماسوی اللہ میری نظروں سے غائب ہو گیا ہے۔اس گندکی اصل وجہ جب میری یہ حالت ہے تو تمہارا اعتراض غلط ہے بلکہ یہ گند تمہارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔اس گند کا علاج پھر آخر پر وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ رکھ کر بتا دیا ہے کہ اگرچہ تمہارے دل گندے ہوچکے ہیں لیکن اگر تم مغفرت مانگو تو اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو صاف اور پاک کر دے گا اور سب گندوں کو دھو دے گا۔اور تمہیں بھی ایسا ہی یقین عطا فرمائے گا۔خیر و شر کی اقسام مطابق مسئلہ تقدیر اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خیر اور شر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک خیر اور شر وہ ہوتے ہیں جو خاص ارادۂ الٰہی کے ماتحت نہیں آتے بلکہ تقدیر عام کے ماتحت آتے ہیں۔قانون قدرت ان کا موجب ہوتا ہے۔ایسے خیر اور شر قانونِ قدرت کے ماتحت کوشش سے آ بھی سکتے ہیں اور ٹل بھی سکتے ہیں۔لیکن ایک خیر اور شر کے نزول کا موجب اللہ تعالیٰ کا خاص ارادہ ہوتا ہے۔ان کے لانے کا موجب دنیوی اعمال نہیں ہوتے۔بلکہ شرعی اعمال ہوتے ہیں۔ایسے خیر و شر کو لانا یا ٹلانا صرف ارادہ الٰہی پر منحصر ہے۔تدبیر سے نہ وہ آسکتے ہیں اور نہ ٹل سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ تقدیر کا ہے۔آپ کی ترقیات تدبیر کے ماتحت نہیں ہیں۔کہ کوئی انہیں تدبیر سے ٹلا سکے۔اور ہر عقلمند غور کرکے معلوم کرسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام فضل الٰہی سے تعلق رکھتے تھے۔اور اس وجہ سے آپ کے دشمنوں کی تدابیر آپ کے مقابلہ میں باوجود آپ کی تدابیر سے بہت زیادہ زبردست ہونے کے بالکل بے کار اور رائیگاں جاتی تھیں۔قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ تو( ان سے) کہہ کہ اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے۔پس (اب) جو کوئی (اس کی اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا بتائی ہوئی )ہدایت کو اختیار کرے تو وہ اپنی جان ہی (کے فائدے )کے لئے ہدایت کو اختیار کرتا ہے۔اور جو (اس