تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 191
وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَ لَا يَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ اور تو اللہ (تعالیٰ) کے سوا( کسی چیز) کو جو تجھے نہ (کوئی) نفع پہنچاتی ہے اور نہ( کوئی) نقصان پہنچاتی ہے۔نہ پکار فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۱۰۷ اور اگر تو نے (ایسا )کیا تو اس صورت میں تو یقیناً ظالموں میں سے ہوگا۔تفسیر۔خدا تعالیٰ کے سوا کوئی چیز نفع یا ضرر پہنچانے پر قادر نہیں یہ مطلب نہیں کہ ان چیزوں کو مت پکار جو نفع و ضرر کی مالک نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی ہے وہ بالذات نفع و ضرر کا مالک نہیں۔پس کسی پر توکل نہ کر۔ظالم بمعنی مشرک ظالم سے مراد اس آیت میں مشرک ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ ظلم کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ظلم سے مراد کبھی شرک بھی ہوتا ہے۔(بخاری کتاب التفسیر زیر آیت لم یلبسوا ایمانہم بظلم) اس جگہ بھی شرک ہی مراد ہے۔وَ اِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ اور اگر اللہ (تعالیٰ) تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی بھی اسے دور کرنے والا نہیں( ہو سکتا) اور اگر وہ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ يُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ تیرے لئےکوئی بہتری چاہے تو اس کے فضل کو روکنے والا (بھی قطعا ً)کوئی نہیں (ہو سکتا)۔وہ اپنے بندوں میں سے مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۰۰۱۰۸ جسے پسند کرتا ہے اسے وہ (یعنی اپنا فضل )پہنچا دیتا ہے اور وہ بہت ہی بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تفسیر۔کفّا رکے شبہات کا موجب قرآن کریم نہیں ہوسکتا اس جگہ یہ بتلایا ہے کہ تم لوگوں کے دلوں میں جو قرآن مجید کی طرف سے شبہات پیدا ہو رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار قرآن مجید نہیں ہے۔ورنہ سب سے پہلے وہ شبہات میرے دل میں پیدا ہونے چاہیے تھے۔جس پر اس کا نزول ہوا ہے۔لیکن مین یقین کی مضبوط