تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 190
وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ اور اس فرمان کے پہنچانے کا بھی حکم دیا ہے کہ( اے مخاطب) تو ہر کجی سے پاک ہوتے ہوئے اپنی توجہ کو ہمیشہ کے الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۱۰۶ واسطے دین کے لئے( وقف) کر دے اور تو مشرکوں میں سے ہرگز نہ بن۔حلّ لُغَات۔اَقَامَ۔اَقِمْ اَقَامَ سے نکلا ہے اَقَامَ الشَّیْ ءَ کے معنی ہیں اَدَامَہٗ۔اسے مداومت کے ساتھ سرانجام دیا۔(اقرب) وَجْہٌ اَلْوَجْہُ کے معنی منہ کے علاوہ چھ اور بھی ہیں (۱) نَفْسُ الشَّیْءِ خود چیز (۲) سَیِّدُ الْقَوْمِ قوم کا سردار (۳) اَلْجَاہُ جاہ و حشمت۔(۴) اَلْجِہَۃُ طرف (۵) اَلْقَصْدُ وَالنِّیَّۃُ نیت و ارادہ (۶) اَلْمَرْضَاۃُ خوشنودی۔یُقَالُ اُرِیْدُ وَجْھَکَ اَیْ رَضَاکَ۔جب اُرِیْدُوَجْہَکَ کہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں تیری خوشنودی چاہتا ہوں۔(اقرب) حَنِیْفٌ اَلْحَنِیْفُ اَلصَّحِیْحُ اَلْمَیْلِ اِلَی الْاِسْلَامِ الثَّابِتُ عَلَیْہِ دین اسلام کی طرف مائل ہونے اور اس پر ثابت رہنے والا وَکُلُّ مَنْ کَانَ عَلٰی دِیْنِ اِبْرَاھِیْمَ۔جو حضرت ابراہیم کے مذہب پر ہو۔ان معنوں میں مذہبی خیالات کا دخل پایا جاتا ہے۔یعنی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معنی اسلام کے نزول کے بعد آیات قرآنیہ کی تفسیر کے اثر کے نیچے پیدا ہو گئے۔اَلْمُسْتَقِیْمُ۔جو ادھر ادھر ہونے والا نہ ہو (اقرب) اصل معنی اس لفظ کے یہی معلوم ہوتے ہیں۔تفسیر۔شرک کے معنی اس آیت میں مشرک نہ ہو، کے یہ معنی نہیں کہ تو بتوں کو نہ پوج۔یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ بنا۔کیونکہ حنیف بن جانے کے بعد پھر اس ہدایت کی ضروت نہیں رہتی۔بلکہ چونکہ مشرک کا لفظ حنیف کے مقابلہ پر آیا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ تو غیراللہ کی طرف بالکل توجہ نہ کر۔ورنہ محض اس فعل سے ہی تو مشرک ہو جائے گا۔گویا شرک کی باریک راہوں کی طرف توجہ دلا کر ان سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔