تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 187
فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ پھر کیا جو لوگ ان سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے ایام (کے نمونہ) کے سوا وہ کسی اور چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔تو قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۰۰۱۰۳ ( ان سے)کہہ( کہ اچھا اگر وہی نمونہ دیکھنا ہے تو) پھر تم( لوگ کچھ) انتظار کرو۔میں (بھی )یقیناً تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔حلّ لُغَات۔اَ یَّامُ اللہِ اَ یَّامُ اللہ نِعَمُہٗ وَنِقَمَہٗ۔ایام اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کے عذاب ہوتے ہیں۔وَعَلَیْہِ فِی الْقُرْانِ وَذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللہِ اَیْ ذَکِّرْھُمْ بِنِعَمِہٖ وَنِقَمِہٖ اور یہی معنی اس لفظ کے آیت فَذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللہِ میں ہیں۔(اقرب) اور زمخشری کی کتاب اساس میں ہے کہ ایام اللہ وہ ہلاکتیں اور تباہیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کے منکرین پر آئیں۔ھُوَ عَالِمٌ بِاَیَّامِ الْعَرَبِ اَیْ بِوَقَائِعِھَا۔ایام العرب سے مراد عرب کی مشہور لڑائیاں اور معرکے ہیں۔(اقرب) پس معنی اس آیت کے یہ ہوئے کہ وہ نہیں انتظار کرتے مگر ویسے ہی عذابوں کا جو ان قوموں پر آئے جو ان سے پہلے گذر چکی ہیں۔یہاں چونکہ دشمن مخاطب ہیں اس لئے نقم ہی کے معنی کئے جائیں گے۔تفسیر۔ظالم کفار کا تاخیر عذاب پر گھبرانا اور مظلوم مومنوں کا مطمئن ہونا یعنی جو ضد کرتے ہیں آخر عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔پس ان کو خود عذاب مانگنے کی ضرورت نہیں۔وہ تو خود ہی اپنے وقت پر آکر رہے گا۔یہ عجیب بات ہے کہ کفار جو اپنے وقت میں غالب ہوتے ہیں اور نبیوں اور ان کی جماعتوں کو دکھ دے رہے ہوتے ہیں عذاب کے لئے گھبراہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن نبی اور ان کی جماعتیں نہیں چاہتے کہ وہ جلد آئے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کہلواتا ہے کہ میں بھی تو عذاب کا انتظار کررہا ہوں۔اور گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرتا۔حالانکہ تمہارے ظلموں کا تختۂ مشق بن رہا ہوں پھر تم جو آرام میں ہو اور ظلم کے مرتکب ہورہے ہو کیوں اس قدر گھبرا رہے ہو۔کوئی مانے یا نہ مانے تم تبلیغ کئے جاؤ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ لوگ ہماری بات نہیں سنتے۔تبلیغ کس کو کریں۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کے اعلان کا ارشاد ہوا تھا کہ اگر تم میری بات نہ