تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 184
اظہار تھا کہ لوگ ایمان لے آئیں۔اس پر سوال ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے تو کیوں اپنی خواہش کو پورا نہیں کرلیتا۔اور سب کو مومن بنا دیتا؟ اس کا کیا لطیف جواب دیا ہے کہ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا۔اگر خدا تعالیٰ اپنی خواہش کو جبریہ طور پر پورا کرنا چاہتا تو پھر کسی ایک قوم کی ہدایت تک کیوں جبر کو محدود رکھتا۔کیوں نہ ساری دنیا ہی کو ہدایت دے دیتا۔لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔بلکہ ایمان کے معاملہ کو اس نے انسان کے اپنے دل پر چھوڑا ہوا ہے۔ہاں وہ پسند یہی کرتا ہے کہ اس کے سب بندے ہدایت پاکر اعلیٰ درجات حاصل کریں۔اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ کے معنی دوسرے حصہ آیت کے دو معنی ہیں۔یہ حصہ پہلے حصہ کی دلیل بھی قرارد یا جاسکتا ہے۔یعنی اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ جبر کرے کیونکہ جبر سے منوانا فائدہ بخش نہیں ہوتا۔عقل مند انسان بھی جبر سے کسی کو نہیں منواتا۔فرمایا اے ہمارے رسول کیا تو پسند کرے گا کہ لوگوں کو جبر سے منوائے نہیں تو ایسا پسند نہیں کرے گا۔پس یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ جو دلوں کے حالات کو جانتا ہے جبر سے لوگوں کو منوائے؟ دوسرے معنی اس کے یہ ہوسکتے ہیں کہ اس میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ ہر مسلمان سے ہے۔اور یہ بتایا ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے پر جوش میں آکر جبر سے کام نہ لینا اور یہ امر مدنظر رکھنا کہ جب خدا تعالیٰ جو مالک و آقا ہے جبر نہیں کرتا تو تم کون ہو جبر کرنے والے؟ اسلام کو جبراً پھیلانے کی سخت ممانعت بہرحال دونوں معنوں میں سے کوئی سے معنی بھی لئے جائیں یہ آیت جبر سے اسلام پھیلانے کی سخت مخالف ہے۔اور ان لوگوں کے اعتراض کو پاش پاش کر دیتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے جبر سے اشاعت دین کی تعلیم دی ہے۔مسلمانوں نے نہ مکی زندگی میں ہی جبر سے کام لیا نہ مدنی زندگی میں اس آیت سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے ممکن نہیں کہ مسلمانوں نے اشاعتِ اسلام میں جبر سے کام لیا ہو۔کیونکہ ابتدائی زمانہ کے مسلمان نہایت سختی سے قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرتے تھے۔اور یہ ممکن نہیں کہ جبکہ مسلمانوں کو حکومت کے ملنے سے پہلے بلکہ اس زمانہ میں جبکہ وہ مکہ مکرمہ میں کفار کے ظلموں کے شکار ہورہے تھے جبر سے روکا جارہا تھا۔وہ حکومت ملنے پر جبر کرنے لگ جاتے۔