تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 178
فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ فَسْـَٔلِ الَّذِيْنَ پھر اگر تو اس( کلام) کی وجہ سے جو ہم نے تیری طرف نازل کیا ہےکسی شک (و شبہ) میں (مبتلا )ہے تو تو ان لوگوں يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ سےجو تجھ سےپہلے اس کتاب کو پڑھ رہے ہیں دریافت کریقیناً یقیناً (ایک) کامل صداقت تیرے رب کی طرف رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَۙ۰۰۹۵ سے تیری طرف آئی ہے پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ بن۔تفسیر۔شک کرنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو سکتے فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوسکتے کیونکہ جس پر کلام نازل ہوتا ہے اس کو شک نہیں ہوسکتا۔پس اس سے مراد اختلاف کرنے والے لوگ ہیں۔قرآن کریم شک پیدا کرنے والا نہیں ہو سکتا نیز اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم سے شک پیدا ہوتا ہے بلکہ اس جگہ کفار کے اعتراض کے الفاظ دہرائے ہیں۔وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں قرآن کریم کی عبارتوں سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہی کے الفاظ کو دہرا کر فرماتا ہے کہ اے معترض اگر تجھے بقول تیرے اس کلام سے شبہات پیدا ہوتے ہیں تو جو لوگ تجھ سے پہلے قرآن کریم کو پڑھ کر فائدہ اٹھا چکے ہیں ان سے پوچھ کہ ان کے دلوں کو اس کتاب نے کیسی جلا اور روشنی عطا کی ہے۔ان سے سوال کرنے پر تجھے معلوم ہو جائے گا کہ یہ کلام شک پیدا کرنے والا نہیں بلکہ یقین پیدا کرنے والا ہے۔تعلیم کے لئے کتاب کے علاوہ معلم انسان کا ہونا بھی ضروری ہے اس آیت سے یہ بات بوضاحت ظاہر ہوجاتی ہے کہ خالی کتاب کافی نہیں ہوتی۔انسان معلم کا بھی محتاج ہوتا ہے کیونکہ روحانی علوم کے انکشاف کے لئے ایک حد تک روحانیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔پس چاہیے کہ جب الہامی کتاب کا انسان مطالعہ کرے تو جن امور کے متعلق اسے شک ہو ان کے متعلق اس کتاب کے ماہرین سے دریافت کئے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرے۔کیونکہ اگر وہ کتاب الہامی ہے تو ضرور اس کا فہم روحانیت کے مطابق نازل ہوگا۔