تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 174
اِسْرَآءِيْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۰۰۹۱ نہیں ہے اور میں (سچی) فرمانبرداری اختیار کرنے والوں میں سے (ہوتا) ہوں۔حل لغات۔جَاوَزَ جَاوَزَ الْمَوْضِعَ تَعَدَّاہُ اس مقام سے گذر کر آگے نکل گیا۔(اقرب) اِتَّبَعَ اِتَّبَعَ اور تَبِعَ میں تفریق کے متعلق اصمعی مشہور ادیب کا قول ہے کہ تَبَعَہُ لَحِقَہُ وَاَدْرَکَہٗ جب تَبِعَ کا لفظ استعمال کریں تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس کے پیچھے گیا۔اور اس کو پالیا۔وَاتَّبَعَہٗ اِذَا تَبِعَ اَثَرَہٗ۔اَدْرَکَہٗ اَوْلَمْ یُدْرِکْہُ اور اَ تَّبَعَ کا لفظ تب استعمال کرتے ہیں جب یہ مقصود ہو کہ وہ اس کے پیچھے گیا۔خواہ اسے ملا ہو یا نہ مل سکا ہو۔اَتْبَعَہٗ تَبِعَہٗ وَذٰلِکَ اِذَا کَانَ سَبَقہٗ فَلَحِقَہٗ۔(قرطبی) اور اقرب الموارد میں ہے کہ اتبع کے معنی پیچھے جانے کے ہوتے ہیں بشرطیکہ جس کا پیچھا کیا جائے وہ آگے نکل چکا ہو۔اور پیچھا کرنے والا پیچھے سے جاکر اس سے مل جائے۔یہ معنی پہلے معنوں کے خلاف ہیں۔اَدْرَکَ الشَّیْءَ۔بَلَغَ وَقْتُہٗ اس کا وقت پہنچ گیا۔(اقرب) تفسیر۔اگر بادشاہ مذہبی امور میں جبر سے کام لے تو اس کے ملک کو چھوڑ دینا چاہیے یہاں ایک عظیم الشان سیاسی بات بیان کی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ہمیں حکم ہے کہ ہم بادشاہ کی فرمانبرداری کریں۔لیکن اگر وہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دے اور جبر سے کام لے تو ہم اس کے ملک سے ہجرت کرجائیں اور اگر وہ ہجرت کرنے سے بھی روکے تو اس وقت وہ بادشاہ باغی سمجھا جائے گا۔اور اس کے ساتھ مقابلہ شرعاً جائز ہوگا۔کیونکہ اس صورت میں ہم حق پر ہوں گے اب اس کی قانون شکنی قانون شکنی نہ رہے گی کیونکہ جس طرح کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی کے ملک میں رہ کر پھر اس کے قانون کی خلاف ورزی اور قانون شکنی کرے اسی طرح کسی کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ باوجود مذہبی اختلاف کے کسی کو اپنے ملک میں رہنے پر مجبور کرے۔بَغْيًا وَّ عَدْوًاکے معنی اس آیت میں بَغْیًا کہہ کر بتایا ہے کہ اس کو قانونی حق بھی باقی نہیں رہا تھا۔اورعَدْوًا کہہ کر ظاہر کیا کہ اس کا اخلاقی حق بھی باقی نہیں رہا تھا۔فرعون کا آخری وقت میں کمال تذلل فرعون کے ڈوبتے وقت کے کلمات میں کمال تذلل پایا جاتا ہے۔اگر صرف موسیٰ کا رب کہتا تو پھر بھی کوئی بات نہ تھی۔کیونکہ حضرت موسیٰ اس کے گھر میں پلے تھے۔اور ان میں معزز سمجھے جاتے تھے۔مگر فرعون کہتا ہے کہ میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لاتا ہوں۔گویا اس خدا پر جو اس کے پتھیروں کا خدا تھا۔کیونکہ بنی اسرائیل کو وہ نہایت ذلیل سمجھتا تھا اور ان سے پتھیروں کا کام لیتا تھا۔