تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 173

قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ (اس پر اللہ تعالیٰ نے )فرمایا تمہاری دعا قبول کر لی گئی ہے۔پس تم( دونوں) ثابت قدمی دکھاؤ اور جو لوگ علم سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۹۰ نہیں رکھتے ان کی راہ کی پیروی ہرگز نہ کرو۔تفسیر۔جواب دعا میں موسیٰ اور ہارون ہر دو کو مخاطب کرنے کی وجہ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعا تو حضرت موسیٰ ؑنے کی اور جواب یہ دیا جاتا ہے کہ تم دونوں کی دعا قبول کی گئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ دعا میں ربنا کا لفظ استعمال کیا گیا تھا جو ایک سے زیادہ پر دلالت کرتا ہے۔پس دعا میں موسیٰ اور ہارون دونو شامل تھے۔وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ میں مخالفین کی کوششوں کا اظہار کیا گیا ہے وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ فَاسْتَقِيْمَا کی تشریح ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ نبی لوگوں کی باتوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ دشمن ہمیشہ اصل مقصد سے دوسری طرف لے جانے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔تم ان سے ہوشیار رہنا اور ان کی ایسی بحثوں کی طرف توجہ نہ کرنا جو تم کو تمہارے اصل مقصد سے دور لے جائیں۔وَ جٰوَزْنَا بِبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے (پار) گذارا تو فرعون اور جُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّ عَدْوًا١ؕحَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اس کی فوجوں نے سرکشی اور ظلم (کی راہ) سے ان کا پیچھا کیا۔حتی کہ جب غرق ہونے (کی آفت) نے اسے آپکڑا اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا تو اس نے کہا میں ایمان لاتا ہوں کہ جس( مقتدر ہستی) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی بھی معبود