تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 172
ہدایت کی خاطر عذاب ہی لا کہ یہ ہدایت تو پائیں۔غرض یہ گمراہی کی بددعا نہیں بلکہ ہدایت کی دعا ہے۔آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی حالت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ بغیر عذاب کے وہ ہدایت نہیں پاسکتے تھے۔جس کی بناء پر حضرت موسیٰ کہتے ہیں کہ مال اور اولاد کا عذاب ان پر آئے تاکہ جو چیزیں ان کی گمراہی کا موجب ہوئی ہیں ان کی طرف سے تکلیف پہنچنے پر یہ لوگ ہدایت کی طرف مائل ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے عذاب کی دعا کی ہے لیکن جو لوگ بغیر سزا کے ہدایت نہ پاسکتے ہوں ان کے لئے عذاب کی دعا تو رحمت کی دعا ہے۔جس طرح ایک خراب شدہ عضو کے کاٹنے کی استدعا ایک رحمت کا مطالبہ ہوتا ہے۔غضب کی دعا تبھی بن سکتی تھی اگر ہدایت سے محروم رکھنے کی دعا ہوتی اور یہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔اُشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ کے معنی دل پر حملہ کرنے کے معنی اولاد کی طرف سے تکلیف ہے۔کیونکہ حملہ کا لفظ اولاد کے مقابلہ پر استعمال ہوا ہے اور یہ حملہ دو طرح ہوسکتا تھا۔ایک اس طرح کہ اولاد کو کوئی تکلیف پہنچے۔اور ایک اس طرح کہ اولاد کو خدا تعالیٰ ہدایت دے دے۔کیونکہ اولاد کا ساتھ چھوڑ کر دشمن سے مل جانا بھی ایک سخت صدمہ کا موجب ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے دشمنوں پر بھی یہی حملہ ہوا اور یہ حملہ سزا نہیں کہلا سکتا۔حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اس طرح یہ سزا ملی کہ فرعون کے ساتھیوں کے بڑے بیٹے مر گئے۔ترتیب الفاظِ دعا یہ لطیفہ قرآنی ترتیب پر لطیف روشنی ڈالتا ہے کہ پہلے حصہ آیت میں لفظ زِیْنَۃٌ جو اولاد کا قائم مقام ہے اسے پہلے رکھا ہے اور اموال کو بعد میں۔لیکن سزا کے ذکر میں اموال کے تباہ کر دینے کا پہلے ذکر ہے اور قلوب پر حملہ کرنے کا ذکر بعد میں آیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انعام کے وقت تو اولاد کا ذکر اس کے درجہ کے لحاظ سے مقدم کیا کیونکہ وہ بڑا انعام تھا لیکن جس جگہ سزا کی دعا تھی گو وہ ہدایت کے لئے ہی تھی وہاں چھوٹی سزا کا مطالبہ پہلے کیا اور بڑی سزا کا بعد میں۔اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ اگر یہ لوگ صرف مالی ابتلاؤں سے ہدایت پا جائیں تو اولاد کی سزا سے ان کو بچا لیا جائے اولاد کی طرف سے تبھی دکھ دیا جائے جب پہلی قسم کا عذاب بے فائدہ ثابت ہو۔اس ترتیب کے فرق میں جہاں قرآن کریم کی ترتیب کی خوبی ظاہر ہوتی ہے وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل کی رأفت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ریورنڈ ویری اعتراض کرتے ہیں کہ یہ دعا بائبل کے مخالف ہے۔لیکن اول تو بائبل کی مخالفت کے معنی سچائی کی مخالفت کے نہیں ہوتے۔دوسرے پادری صاحب نے چونکہ آیت کے غلط معنی کئے ہیں اس لئے اختلاف نظر آیا ہے ورنہ اصل میں کوئی اختلاف نہیں۔