تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 10

دنیا میں موجود تھی۔چنانچہ سورہ نمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت سلیمان نے جو خط ملکۂ سبا کو لکھا تھا اس میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ بھی درج تھا۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہود یا زردشتیوں یا صابیوں یا کسی اور قوم میں یہ آیت پہلے سے موجود تھی تو بھی کوئی حرج نہیں۔کیونکہ قرآن کریم خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ آیت حضرت سلیمان کو معلوم تھی اور جو آیت حضرت سلیمان کو معلوم تھی وہ اور انبیاء اور ان کے متبعین کو بھی معلوم ہوسکتی ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ آیت عربی میں نازل ہوئی اور پہلی قوموں میں ان کی اپنی زبانوں میں مگر باایں ہمہ قرآن کریم میں اس آیت کی موجودگی نقل نہیں کہلاسکتی۔کیونکہ قرآن کریم میں اس آیت کا وجود ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ہے۔اور جو کلام کسی نئی غرض کے لئے دوہرایا جائے اور کسی خاص فائدہ کے لئے لایا جائے وہ نقل یا چوری ہرگز نہیں کہلاتا۔موسیٰ ؑ کی پیشگوئی تھی کہ (۱) بنی اسمٰعیل میں سے ایک نبی آئے گا۔(۲) اس کو موسیٰ کی طرح شریعت دی جائے گی (۳) وہ جو نیا مضمون بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے پاکر دنیا کے سامنے پیش کرے گا اس سے پہلے یہ کہہ لے گا کہ میں خدا تعالیٰ کا نام لے کر اس کلام کو شروع کرتا ہوں۔(۴) اگر کوئی جھوٹا انسان اس پیشگوئی کو اپنے پر چسپاں کرنا چاہے گا تو وہ ہلاک ہو جائے گا۔(۵) اور جو اس پیشگوئی کے مصداق کا انکار کرے گا وہ بھی ہلاک کیا جائے گا۔اب بتاؤ اس پیشگوئی کا مصداق سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سوائے قرآن کریم کے اور کون ہے؟ پس قرآن کریم میں ہر سورت سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ہے۔مگر کیا یہ امردساتیر کے متعلق ثابت کیا جاسکتا ہے۔کیا ان کے مصنف بنی اسمٰعیل میں سے تھے۔یا موسیٰ کی طرح شریعت لائے تھے یا ان کی وحی سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ لکھا ہوا ہوتا تھا؟ وہ تو ایک تاریخ کی کتاب ہے جس میں انبیاء کا حال ہے۔اور موسیٰ کی پیشگوئی میں یہ شرط ہے کہ اس نبی کے ہر مستقل حصۂ وحی سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ ہو۔غرض باوجود اس کے کہبِسْمِ اللّٰهِ پہلے انبیاء کی امتوں میں مروج تھی۔قرآن کریم میں اس کا وجود تکرار یا چوری نہیں کہلاسکتا۔کیونکہ وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ اس سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ تھی اور اس لئے کہ اس میں بِسْمِ اللّٰهِ موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے آئی ہے۔اور اگر ایسا نہ ہوتا تو موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی جھوٹی جاتی۔الٓرٰ١۫ مقطّعات قرآن کریم حروف مقطّعات اپنے اندر بہت سے راز رکھتے ہیں۔ان میں سے بعض راز بعض