تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 9
نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا‘‘ صاف بتا تے ہیں کہ بِسْمِ اللّٰہِ کے الفاظ اس کے ہر نئے کلام کے پہلے ہوں گے۔پس بِسْمِ اللّٰہِ کا ہر سورۃ سے پہلے آنا اس پیشگوئی کے مطابق ہے۔اور اس پر تکرار کا اعترنہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لواض خصوصاً ان اقوام کے منہ سے جو موسیٰ ؑ کی پیرو ہیں بالکل زیب نہیں دیتا۔کیا بسم اللہ پہلی کتب سے لی گئی ہے مسیحیوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ آیت پہلی کتب سے نقل کی گئی ہے۔راڈول لکھتا ہے کہ یہ کلمہ یہودی الاصل ہے (تفسیر القرآن از ویری صفحہ ۲۸۶) ویری لکھتا ہے کہ ’’یہ امر قریباً یقینی ہے کہ یہ کلمہ محمد (صلعم) نے یہودیوں اور صابیوں سے مستعار لیا ہے۔آخرالذکر ہمیشہ اپنی تحریروں سے پہلے یہ لکھا کرتے تھے ’’بنام یزداں بخشائش گر داد گر‘‘ (تفسیر القرآن از ویری صفحہ ۲۸۹) پادری سنٹ کلیرٹسڈل صاحب نے اپنی کتاب ینابیع الاسلام میں اس عبارت کو زردشتیوں کی طرف منسوب کیا ہے اور لکھا ہے کہ کتاب دساتیر میں ہر نبی کے صحیفے سے پہلے یہ عبارت ہے کہ بنام ایزد بخشائش گر مہربان دادگر (اردو ترجمہ ینابیع الاسلام صفحہ ۱۲۷) اب یہ عجیب بات ہے کہ تین مسیحی مصنّف اس آیت کو مسروقہ ثابت کرنے کے لئے تین سرچشمے اس کے بیان کرتے ہیں۔ایک یہودیوں کو اس کا سرچشمہ بناتا ہے دوسرا صابیوں کو، تیسرا زردشتیوں کو۔اس قدر کوشش ان لوگوں کی اس آیت کو مسروقہ ثابت کرنے کی بتاتی ہے کہ اس آیت کی عظمت کے تو یہ لوگ بھی قائل ہیں ورنہ صرف اس قدر لکھ دیتے کہ اس آیت کے مضمون میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ تینوں سرچشموں میں سے اصل سرچشمہ کون سا ہے۔جب تین سرچشمے ہیں تو ان میں سے کون سے چور ہیں اور کون سا اصلی ہے۔آیا یہودیوں نے زردشتیوں یا صابیوں سے چرایا ہے یا برعکس معاملہ ہے؟ سب سے بڑھ کر لطیفہ یہ ہے کہ یہودیوں میں اس کلمہ کے استعمال کا ایک بھی حوالہ نہیں دیا گیا اور نہ وہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں کہ جن میں یہودی اس آیۃ کو استعمال کرتے تھے بلکہ باوجود اس کے کہ مسیحیت یہودیت کی شاخ ہے اور یہودی کتب گویا مسیحیوں کی اپنی مذہبی کتب ہیں پھر بھی مسیحی مصنف یہودی کتب کا تو حوالہ نہیں دے سکے اور نہ ان کے الفاظ نقل کرسکے۔لیکن زردشتیوں اور صابیوں کی کتب کے حوالے انہوں نے نقل کر دیئے ہیں۔مگر یہ حوالے خود مشکوک ہیں۔کیونکہ زردشتی ان کتب کو وضعی قرار دیتے ہیں۔اور کوئی تعجب نہیں کہ وہ سب یا ان کے بعض حصے اسلام کے بعد بنائے گئے ہوں۔لیکن اگر انہیں صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی قرآن کریم پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔کیونکہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہی نہیں کہ یہ آیت پہلی دفعہ قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے بلکہ وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے بھی