تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 171

لَّهَا (الکہف :۸) بلکہ حیات دنیا کو بھی زینت فرمایا ہےچنانچہ فرماتا ہے۔اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِيْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ (الحدید:۲۱) مگر جہاں زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کا ذکر فرماتا ہے وہاں پر لفظ زینت کا اطلاق دو ہی چیزوں یعنی مال و اولاد پر ہوتا ہے۔جیسے کہ سورۂ کہف میں آتا ہے۔اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا (الکہف:۴۷) یعنی مال اور بیٹے دونوں ورلی زندگی کی زینت ہیں اور جہاں اقوام کی گمراہی کے ذکر میں زینت کا ذکر آتا ہے اس سے بھی حیٰوۃ دنیا کی زینت ہی مراد ہوتی ہے۔جو اموال و اولاد پر مشتمل ہوتی ہے۔لیکن یہاں پر زینت کا اطلاق مجرد اولاد پر ہوا ہے۔کیونکہ یہاں زینت کے ساتھ اموال کا لفظ بڑھا دیا ہے۔جو کہ حقیقت میں اس کے معنوں کا ایک حصہ تھا اور جب کسی حصہ کو الگ بیان کر دیا جائے تو لفظ صرف بقیہ معنوں پر دلالت کرتا ہے۔جیسے اَسْرٰی رات کے سفر کو کہتے ہیں مگر اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا (بنی اسرائیل:۲) میں رات کا ذکر علیحدہ ہو جانے کی وجہ سے اسریٰ کے معنے مجرد سفر کرنے کے رہ گئے ہیں۔تفسیر۔لِیُضِلُّوْا کے لام کے معنی آیۃ کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اموال اور اولاد۔آل فرعون کو اس لئے دیا تھا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے بلکہ لِیُضِلُّوْا کا لام صیرورۃ اور عاقبۃ کا لام ہے۔اور اس کے یہ معنی ہیں کہ تو نے تو ان کو مال و اولاد دیئے تھے لیکن بجائے شکر گذار بننے کے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ گمراہ کرنے لگ گئے ہیں۔غرض لام اس جگہ علت پر دلالت نہیں کرتا۔بلکہ نتیجہ پر دلالت کرتا ہے۔اور یہ ایک طریق اظہار افسوس کا ہے کہ کیسی بدنصیب قوم ہے کہ اس قدر احسانات کے بعد بھی ناشکری کرتی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتی ہے۔فَلَا یُؤْمِنُوْاکے معنی فَلَا یُؤْمِنُوْا کا عطف لِیُضِلُّوْا پر ہے۔یعنی گمراہ کریں گے اور ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ عذاب نہ دیکھ لیں۔رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ کا جملہ معترضہ ہے۔اور اس میں بددعا نہیں بلکہ حقیقت میں دعا کی گئی ہے۔اس دعا کے معنی حضرت موسیٰ بیان فرماتے ہیں کہ خدایا تو نے تو ان کو مال و اولاد دیئے تھے چاہیے تھا کہ یہ شکر گذار بنتے لیکن یہ الٹے ناشکرے ہو گئے ہیں۔اور اس قدر ترقی کی ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرنے لگ گئے۔اور اس حالت کو پہنچ گئے کہ عذاب الیم کے سوا ان کے دلوں کو تیری طرف کوئی چیز مائل ہی نہیں کرتی۔پس میں دعا کرتا ہوں کہ ان کے مالوں کو تباہ کر اور ان کے دلوں کو صدمہ پہنچا۔یعنی اولاد کی طرف سے تکالیف پہنچا تاکہ انہیں ہدایت حاصل ہو کیونکہ یہ اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ سوائے عذاب کے ایمان کی طرف مائل نہیں ہوسکتے۔پس ان کی