تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 170

ترقی کے سات گُر خلاصہ یہ کہ اس آیت میں سات گر ترقی کے بتائے ہیں۔جن پر عمل کرکے دنیا کی ہر قوم ترقی کرسکتی ہے۔یعنی (۱) اجتماع (۲) اتحاد (۳) تعاون (۴) نظام (۵) بڑے چھوٹوں میں ارتباط (۶) دعا (۷) استقلال۔اور آخری گر نگراں کے لئے بتایا کہ وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ کہ جو لوگ اطاعت کے حلقہ میں آجائیں ان کو کامیابی کی خوشخبری دے دے کر ان کا حوصلہ بڑھاتے رہنا چاہیے۔کیونکہ مایوسی اور ناامیدی سب آفتوں سے بڑی آفت ہے۔وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِيْنَةً وَّ اور موسیٰ نے کہا( کہ) اے ہمارے رب تو نے( تو) فرعون (کو) اور اس کی قوم کے بڑے لوگوں کو (اس) ورلی اَمْوَالًا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِكَ١ۚ زندگی میں زینت (کے سامان) اور اموال دے رکھے ہیں۔اے ہمارے رب( لیکن) اس کے نتیجہ میں وہ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا ( اوروں کو بھی) تیری راہ سےبرگشتہ کر رہے ہیں اے ہمارے رب ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۰۰۸۹ (کی زمین) پر حملہ آور ہو (اور) پھر اس کے نتیجہ میں وہ جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں( آئندہ بھی) ایمان نہ لائیں گے۔حلّ لُغَات۔طَمَسَ طَمَسَ عَلَیْہِ اَھْلَکَہٗ اسے ہلاک کر دیا۔طَمَسَہٗ۔اِسْتَأْصَلَ اَثَرَہٗ اس کا نشان مٹا ڈالا۔(اقرب) شَدَّ عَلَیْہِ شَدَّ عَلَیْہِ حَمَلَ عَلَیْہِ۔اس پر حملہ کیا (اقرب) اس کے معنی دل کو سخت کرنے کے جو مفسرین نے لکھے ہیں یعنی ان کے دلوں کو سخت کر دے۔وہ کسی لغت کی کتاب میں نہیں ملتے۔لغت کی کتب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب حَمَلَ کے بعد علیٰ آئے تو اس کے معنی صرف حملہ کرنے کے ہوتے ہیں۔زِیْنَۃٌکے معنی اَلزِّیْنَۃُ مَایُتَزَیَّنُ بِہٖ۔حسن کے حصول اور عیوب کے زوال اور خفاء کا سامان اور ذریعہ (اقرب) یوں تو قرآن مجید نے ان سب چیزوں کو زینت فرمایا ہے جو زمین پر ہیں جیسا کہ فرمایا اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِيْنَةً