تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 169
اَلْقِبْلَۃُ اَلْقِبْلَۃُ النَّوْعُ۔قسم اَلْجِھَۃُ طرف۔کہتےہیں مَالِھٰذَا الْاَمْرِ قِبْلَۃٌ۔اَیْ جِھَۃُ صِحَّۃٍ اس بات کی درستی کی اور ٹھیک ہونے کی کوئی راہ نہیں ہے۔اَلْکَعْبَۃُ کعبہ کو بھی قبلہ کہتے ہیں۔کُلُّ مَایُسْتَقْبَلُ مِنْ شَیْءٍ۔جس چیز کی طرف منہ کیا جائے اور مَالَہٗ فِی ھٰذَا قِبْلَۃٌ وَلَادِبْرَۃٌ کے معنی ہیں اسے اس بات کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔اِجْعَلُوْا بُیُوْتِکُمْ قِبْلَۃً۔اَیْ مُتَقَابَلَۃً اور اِجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً کے معنی ہیں متقابل یعنی آمنے سامنے۔(اقرب) تفسیر۔مصر میں گھر بنا کر رہو کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پہلے جنگل میں رہتے تھے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ اکٹھے ہوکر رہو۔تاکہ ایک دوسرے سے تعاون کرسکو۔یہ بھی ایک قسم کی ہجرت ہوتی ہے۔یہ ایک طبعی جذبہ ہے کہ کمزور جماعتیں شہروں میں اکٹھی ہوجاتی ہیں۔پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔یہاں ہندو لوگ شہروں میں اپنی نسبت آبادی سے زیادہ آباد ہیں۔یوپی میں مسلمانوں کی آبادی کم ہے۔وہاں مسلمان اپنی تعداد کی نسبت سے شہروں میں زیادہ آباد ہیں۔اجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَةً کے معنی وَاجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَةً کے معنی قبلہ کے مختلف معنوں کی وجہ سے کئی ہوں گے۔اور جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسے الفاظ کا استعمال کیا ہے کہ ایک لفظ ہی کئی معانی پر دلالت کردے۔پس جس قدر معنی سیاق و سباق کے رو سے لگ سکیں سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔پس قبلہ کے متفرق معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ (۱) اکٹھے ہوکر رہنا چاہیے۔کیونکہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے گھر تب ہی ہوسکتے ہیں جب سب لوگ اکٹھے ہوکر رہیں۔(۲) ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔کیونکہ آمنے سامنے مکان بنانے کی غرض یہی ہوا کرتی ہے کہ وقت پر آسانی سے مدد کرسکیں۔(۳) چونکہ قبلہ کے معنی جہت کے بھی ہیں۔پس یہ بھی مراد ہے کہ ایک ہی طرف سب مکان ہوں یعنی سب جماعت ایک نظام کے ماتحت ہو اور متحدہ مقاصد کی پیروی کی جائے۔(۴) قبلہ کے معنی نوع کے بھی ہوتے ہیں۔پس یہ معنی بھی ہوں گے کہ ایک قسم کے مکان ہوں اور ان معنوں سے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قومی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ غریب و امیر میں مضبوط رابطہ ہو۔اور ساری قوم ایک ہی رنگ میں رنگین نظر آئے تاکہ ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت حاصل ہو۔اگر ایک شخص محلات میں رہے گا اور دوسرا جھونپڑے میں تو ارتباط پیدا ہونا مشکل ہوگا۔اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ میں دعاؤں کی طرف اور استقلال کے ساتھ کام کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔کیونکہ اِقَامۃ استقلال پر دلالت کرتی ہے۔