تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 168
طرف اشارہ ہے اس آیت میں۔کہ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ (الحجرات :۱۵) یعنی تم لوگوں کو مسلمانوں کی صحبت سے ابھی ظاہری نقل کی توفیق ملی ہے۔پس یہ تو کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں اور یہ نہ کہو کہ ہم مومن ہو گئے ہیں کیونکہ ابھی قلبی صفائی کا مقام تمہیں طے کرنا ہے۔فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ اس پر انہوں نے کہا( کہ) ہم اللہ( تعالیٰ )پرہی بھروسہ رکھتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں (ان) ظالم لوگوں کے الظّٰلِمِيْنَۙ۰۰۸۶ لئےفتنہ( کا موجب) نہ بنا۔تفسیر۔اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم ایسے کام نہ کریں کہ ظالم لوگوں کو دین پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے اور یہ بھی کہ ہمیں ظالم قوم کے ظلموں کا تختہ مشق نہ بنا۔وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۸۷وَ اَوْحَيْنَاۤ اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر لوگوں( کے ظلم) سے بچا لے۔اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا وَّ مصرمیں چند مکانوں (کی جگہ) کو اپنی قوم کے( رہنے کے) لئے اختیار کرو اور تم (سب لوگ) اپنے( اپنے) گھر اجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۸۸ آمنے سامنے بناؤاور( ان میں) عمدگی سے نماز ادا( کیا) کرو اور( یہ وحی بھی کی کہ اے موسیٰ ) تو مومنوں کو ( کامیابی کی) بشارت دے۔حلّ لُغَات۔تَبَوَّأَ تَبَوَّأَالْمَکَانَ وَبِہٖ اِتَّخَذَہٗ مَحَلَّۃُ وَاَقَامَ بِہٖ۔یعنی تَبَوَّأَ الْمَکَانَ یا تَبَوَّأَ بِالْمَکَانِ کے معنی ہوتے ہیں اسے اپنی جائے رہائش بنا لیا۔اور اس میں ٹھہرا۔