تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 167
وَ قَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَيْهِ اور موسیٰ نے (اپنی قوم سے )کہا (کہ) اے میری قوم اگر یہ بات (درست) ہے کہ تم اللہ( تعالیٰ) پر ایمان تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ۰۰۸۵ لائے ہو۔تو اگر( اس کے ساتھ) تم (اس کے) سچے فرمانبردار (بھی) ہو تو اسی پر بھروسہ کرو۔تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ تم کو خدا تعالیٰ پر پورا اعتماد رکھنا چاہیے۔تمہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جس کام کے پیچھے تم لگے ہو وہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔بہت سے لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں کام قومی کام ہے اس اصطلاح کو اسلام نے تسلیم نہیں کیا۔وہ اس کی بجائے دینی کام یا خدا تعالیٰ کے کام کی اصطلاح کو پسند کرتا ہے۔اس طرح ایک تو خدا تعالیٰ مدنظر رہتا ہے۔دوسرے قوم پرستی کے تنگ دائرہ سے انسان آزاد رہتا ہے۔اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ۔کا جملہ بظاہر زائد معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس سے پہلے فرما چکا ہےاِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ3 لیکن درحقیقت یہ زائد نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق اور نئے معنی پیدا کرنے کے لئے آیا ہے۔اسلام جب ایمان کے مقابل آجائے تو اس وقت ایمان کے معنی یقین کامل کے ہوتے ہیں اور اسلام کے معنی ظاہری اطاعت کے ہوتے ہیں۔گویا اس موقع پر ایمان سے مراد قلبی اطاعت اور اسلام سے مراد ظاہری اطاعت ہوا کرتی ہے۔پس اس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ اگر تم کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین ہوچکا ہے تو اگر تم عملی طور پر اس ایمان کے ثمرات کو پرکھنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔اور اپنے سب کام اسی کے سپرد کردو۔اس آیت میں بتایا ہے کہ قلبی ایمان کے بعد عملی تغیر ہونا چاہیے۔کیونکہ مومن کے لئے ایمان کا درجہ پہلے اور اسلام کا درجہ بعد میں آتا ہے۔لیکن کمزور ایمان والے کے لئے اسلام کا درجہ پہلے اور ایمان کا درجہ بعد میں آتا ہے۔کیونکہ کمزور ایمان والا پہلے اعمال شروع کرتا ہے پھر اس کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس کا دل قوی ہو جاتا ہے۔اور ایمان بھی مضبوط ہوجاتا ہے۔لیکن جس شخص کو پختہ ایمان حاصل ہوتا ہے اس کے اعمال اس کے ایمان کے تابع ہوتے ہیں کیونکہ اس کی ترقی ذاتی ہوتی ہے۔پس اصلاح کا کام بھی دل سے نکل کر ظاہر کی طرف آتا ہے۔ادنیٰ درجہ کے آدمی کی اصلاح طفیلی ہوتی ہے۔اور دوسرے کے سہارے کی محتاج ہوتی ہے۔اس وجہ سے باہر سے اندر کی طرف آتی ہے۔اسی کی