تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 166

ہے کہ انبیاء کے زمانہ میں لوگوں کے دل تو انہیں مان جاتے ہیں مگر ڈر کے مارے ظاہر میں انہیں نہیں مانتے۔اور کھلے کھلے طور پر ان پر ایمان نہیں لاتے۔کئی جابر بادشاہ ہوتے ہیںمگر وہ عقلمند بھی ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کو ایسے طور پر تنگ نہیں کرتے کہ جس سے لوگ ان کی بغاوت پر مجبور ہوں مگر فرعون بیوقوف تھا کہ اس نے ایسا طریق اختیار کیا۔جس نے لوگوں کو اس کی بغاوت پر مجبور کر دیا۔حضرت نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں پر بھی ظلم و جبر ہوا۔لیکن حضرت نوح ؑ کا زمانہ حقیقتاًاستہزاء کا زمانہ تھا۔کیونکہ ان کی قوم ان کے مخالف تھی انہیں اور ان کے ساتھیوں کو حقیر سمجھ کر ان کے مٹانے کے لئے اس قدر جدوجہد نہ کرتی تھی لیکن فرعون کے زمانہ میں چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم ان کے ساتھ تھی اس لئے اس کو ان کے بڑھ جانے کا اور اپنے کمزور ہو جانے کا خوف تھا۔اور اس لئے وہ ان پر جبر کرتا تھا مگر یہ اس کی بہت بڑی نادانی تھی ایسے بے وجہ تشدد اور ظلم سے بغاوت کو تقویت پہنچتی ہے اور فائدہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی ساری قوم ان پر ایمان نہیں لائی تھی۔بلکہ اس کا ایک حصہ ایمان لایا تھا جیسا کہ ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ کا لفظ ظاہر کررہا ہے۔اور باقی حصہ صرف سیاسی رنگ میں ساتھ مل گیا تھا۔بعض مفسرین نے مِّنْ قَوْمِهٖ کی ضمیر کو فرعون کی طرف پھیرا ہے اور یہ مراد لی ہے کہ فرعون کی قوم میں سے بھی کچھ لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں۔مَلَاۡىِٕهِمْکی ضمیر کا مرجع اس آیت میں مَلَاۡىِٕهِمْ کی ضمیر کے متعلق سوال ہے کہ یہ ضمیر کس طرف جاتی ہے۔بعض کے نزدیک بنی اسرائیل کے سرداروں کی طرف جاتی ہے کیونکہ انہی کا ذکر ہے۔اور بعض کے نزدیک فرعون کی قوم کے سرداروں کی طرف ان کے نزدیک بنی اسرائیل کا سردار انہیں اس لئے کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل محکوم تھے۔میرے نزدیک کسی خاص طرف ضمیر کے پھیرنے کی ضرورت نہیں۔ملک کے بڑے لوگ صرف قوموں کے لحاظ سے بڑے نہیں ہوتے بلکہ حکومت کے لحاظ سے بھی۔پس حکومت کے جو بڑے لوگ تھے خواہ اسرائیلی ہوں یا فرعونی سب بنی اسرائیل کے بڑے لوگ کہلا سکتے ہیں اور فرعون دونوں ہی کے ذریعہ سے ظلم کیا کرتا تھا۔