تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 165
اور پورا اعتماد کیا۔اٰمَنَ لَہٗ خَضَعَ وَاِنْقَادَ۔فرمانبرداری اختیار کی۔مطیع ہو گیا۔کہنا مان لیا۔(اقرب) ذُرِّیَۃٌ اَلذُرِّیَۃُاَلصِّغَارُ مِنَ الْاَوْلَادِ وَاِنْ کَانَ قَدْ یَقَعُ عَلَی الصِّغَارِ وَالْکِبَارِ مَعًا فِی التَّعَارُفِ۔یعنی ذُرِّیَۃ کے معنی چھوٹی عمر کے بچوں کے ہوتے ہیں۔لیکن کبھی عرف عام میں چھوٹے اور بڑے سب بچوں کے لئے مشترک طور پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔وَیُسْتَعْمَلُ لِلْوَاحِدِ وَالْجَمْعِ وَاَصْلُہٗ لِلْجَمْعِ۔اور یہ لفظ ایک بچہ کے لئے بھی اور زیادہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔گو اصل میں جمع کے لئے ہی یہ لفظ بنا ہے۔(مفردات) علا کے معنی علاوہ اور معانی کے (تعلیل) یعنی اظہار سبب و علت کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) فَتَنَ۔فَتَنَ یَفْتِنُ فَتْنًا وَفُتُوْنًا۔اَعْـجَبَہٗ اسے پسند آیا۔فَتَنَ الْمَالُ النَّاسَ۔اِسْتَمَالَھُمْ مال نے ان کو اپنی طرف مائل کیا۔فَتَنَتِ الْمَرْأَۃُ فُلَانًا وَلَّھَتْہُ اس عورت نے اس مرد کو اپنا فریفتہ بنالیا۔فَتَنَ زَیْدٌ عَمْرًا اَوْقَعَہٗ فِی الْفِتْنَۃِ فَفَتَنَ اَیْ فَوَقَعَ۔زید نے عمرو کو فتنہ میں ڈال دیا اور وہ فتنہ میں پڑ گیا۔یعنی لازم و متعدی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔فُلَانًا فِتْنَۃً وَمَفْتُوْنًا اَضَلَّہٗ اسے گمراہ کر دیا۔فَتَنَ الرَّجُلُ فَتْنًا اِلَی النِّسَآءِ۔اَرَادَ بِہِنَّ الْفُجُوْرَ۔عورتوں سے بدکاری کا ارادہ کیا۔فَتَنَ الشَّیْءَ فَتْنًا۔اَحْرَقَہٗ اس چیز کو جلا دیا۔اور انہی معنوں میں قرآن کریم کی اس آیت میں یہ لفظ آیا ہے۔وَھُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ (اقرب) فَتَنَ فُلَانًا عَنْ رَأْیِہٖ۔صَدَّہٗ اس کو اس کی رائے سے باز رکھا۔فَتَنَ الصَّائِغُ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ فِتْنَۃً اَذَابَہٗ بِالْبُوْتَقَۃِ وَاَحْرَقَہٗ بِالنَّارِ لِیُبَیِّنَ الْجَیِّدَ مِنَ الرَّدِیِّ وَیُعْلَمُ اَنَّہُ خَالِصٌ اَوْ مَشُوْبٌ وَھُوَ اَصْلُ مَعْنَی الْفِتْنَۃِ۔یعنی چاندی یا سونے کو کٹھالی میں ڈال کر پگھلایا اور آگ میں گرم کیا۔تاکہ کھوٹے کو کھرے سے جدا کرے اور معلوم ہوجائے کہ وہ خالص ہے یا آمیزش والا ہے۔اور یہی اصل معنی فتنہ کے ہیں۔(اقرب) عَلَا عَالٍ عَلَا کا اسم فاعل ہے۔عَلَا کے معنی ہیں۔اِرْتَفَعَ اونچا ہوا۔فِی الْاَرْضِ تَکَبَّرَ وَ تَجَبَّرَ۔ملک میں ظالمانہ طریق پر حکومت کی۔فُلَانًا غَلَبَہٗ وَقَھَرَہٗ دبا کر زیر کرلیا (اقرب) أَسْرَفَ۔مُسْرِفٌ اَسْرَفَ کا اسم فاعل ہے۔جس کے معنی ہیں جَاوَزَ الْحَدَّوَ اَفْرَطَ حد سے بڑھا۔اَخْطَأَ غلطی کی جَھِلَ جہالت سے کام لیا۔غَفَلَ غفلت دکھائی۔(اقرب) تفسیر۔جبر کا لازمی نتیجہ بغاوت ہے فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ الخ کے یہ معنی ہوئے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی ان کی قوم کے ہی کچھ آدمیوں نے اطاعت کی اور دوسرے لوگوں نے اس ڈر کے مارے ان کی بات نہ مانی کہ فرعون انہیں تکلیف نہ پہنچائے یا عذاب میں نہ ڈالے یا ان کو جلا نہ دے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا