تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 157

پس گو ورثہ کے ایمان والا ان متضاد باتوں کو جمع کرسکتا ہے۔مگر مذہب کا بانی ایسا نہیں کرسکتا۔فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍمیں حضرت نوحؑ کی زبان سے یہ کہلوایا ہے کہ اگر تم نے پیٹھ پھیری اور جیسا کہ پیشگوئی سے ظاہر ہے تم ضرور پیٹھ پھیرو گے اور میں تم پر غالب آیا۔تب بھی میں کوئی مالی ذمہ داری تم پر نہیں ڈالوں گا۔کیونکہ میں نے یہ کام تمہاری خیرخواہی کے لئے کیا ہے نہ پہلے کوئی اجر مانگا نہ آئندہ کوئی اجر اپنے لئے وصول کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس معاملہ میں اسوہ اگرچہ حضرت نوح ؑ کو یہ موقع نہیں ملا کہ دشمن ان کے مقابلہ میں حملہ کرکے شکست کھاگئے ہوں اور پھر حضرت نوح ؑ کو ان سے فاتحانہ معاملہ پڑا ہو اور پھر انہوں نے کچھ نہ لیا ہو۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع ملا۔آپ کی قوم آپ کے ہاتھوں مفتوح ہوئی اور حضور فاتحانہ طریق سے داخل مکہ ہوئے۔اور حضور نے ان سے اس حالت میں بھی اپنے نفس کے لئے ایک حبہ بھی وصول نہ کیا۔اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ میں یہ بتایا گیا ہے کہ مجھے تو خدمت ہی کا حکم ہے۔بادشاہت کے لئے تو میں بنایا ہی نہیں گیا۔پس اگر میں غالب بھی آ گیا تب بھی میرا کام خدمت کرنا ہی ہوگا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں ع منہ از بہرِ ماکرسی کہ ماموریم خدمت را (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۵) فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ (مگر) پھر( بھی) انہوں نے اسے جھٹلایا۔تب ہم نے اسے اور( نیز) انہیں جو کشتی میں اس کے ساتھ (سوار) تھے خَلٰٓىِٕفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ بچالیا اور انہیںہم نے جانشین بنا دیا اور جن لوگوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا( تھا) انہیں ہم نے غرق کر دیا۔كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ۰۰۷۴ سودیکھ (کہ )جن لوگوں کو(اس عذاب سے) آگاہ کر دیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا۔حلّ لُغَات۔خَلِیْفَۃٌ خَلَائِفُکا واحد خلیفۃ ہے۔اَلْخَلِیْفَۃُ مَنْ یَّخْلُفُ غَیْرَہٗ وَیَقُوْمُ مَقَامَہٗ