تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 156
فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا پھر( بھی) اگر تم پھر جاؤ تو( اس میں میرا کوئی نقصان نہیں۔بلکہ تمہارا ہی ہے )کیونکہ میں نے تم سے (اس کی بابت) کوئی اجر عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۰۰۷۳ نہیں مانگا۔میرا اجر اللہ( تعالیٰ) کے سوا( اور) کسی پر نہیں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے) کامل فرمانبرداروں میں سے بنوں۔تفسیر۔انبیاء کے دشمن اعتراض کیا کرتے ہیں کہ وہ حکومت پسند ہوتے ہیں۔اور لوگوں پر غلبہ حاصل کرنا ان کا فطرتی تقاضا ہوتا ہے۔اس آیت میں اس اعتراض کا خوب قلع قمع کیا گیا ہے۔انبیاء کی زندگی اطاعت اور فرمانبرداری کی ایک بہترین مثال ہوتی ہے۔اگر وہ حکومت کے خیال سے سب کچھ کرتے ہوتے تو لوگوں پر حکومت کرتے اور خود اپنے نفس کو تکلیف میں نہ ڈالتے مگر وہ تو خود اپنے نفس کو سب سے زیادہ تکلیف میں ڈالتے ہیں۔وہ لوگوں کو ہی عبادت کا حکم نہیں دیتے بلکہ سب سے زیادہ خود عبادت کرتے ہیں۔دوسروں کو ہی زکوٰۃ کا حکم نہیں دیتے بلکہ خود سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی خواہش ان پر غالب نہیں ہوتی۔بلکہ اطاعت و فرمانبرداری کی صفت ان پر غالب ہوتی ہے۔اور وہ اول المسلمین ہوتے ہیں۔یعنی فرمانبرداروں کے سردار۔حکومت پسندی اور فرمانبرداری دو متضاد باتیں ہیں ممکن ہے کسی کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہو کہ بعض بڑے بڑے جابر بادشاہ گذرے ہیں۔جو بڑے عابد اور صدقہ و خیرات بھی کرنے والے تھے۔لیکن یہ اعتراض درست نہیں۔بے شک ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں۔جو جابر بھی ہوں اور عبادت گزار بھی ہوں۔مگر ایسے لوگ وہی ہوں گے جن کا ایمان ورثہ کا ایمان ہوگا۔جو شخص اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ کہتے ہوئے نئے سرے سے اپنی قوم میں نیکی اور تقویٰ کی عادت ڈالتا ہے اس میں کبھی یہ دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں۔کیونکہ اس کے اندر دونوں باتیں اسی کے نفس سے پیدا ہونی ضروری ہیں۔اور یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص کے دل میں ایک ہی وقت میں لوگوں پر حکومت کرنے کا خیال بھی پیدا ہو اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے اور کرانے کا بھی۔ہاں یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کو اس کے ماں باپ یا بزرگ عبادت کی عادت ڈال دیں اور اپنی طبیعت کی رو سے وہ جابر اور ظالم بھی ہو۔