تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 8

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر( شروع کرتا ہوں) جو بے حد کرم کرنے والا( اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔بسم اللہ کے متعلق حضرت موسیٰ ؑ کی ایک پیشگوئی یہ آیت جو ہر سورت کے پہلے آتی ہے ایک پیشگوئی کو یاد دلاتی ہے۔وہ پیشگوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہے اور کتاب استثنا باب ۱۸ آیت۱۹ میں بیان کی گئی ہے۔اور اس کی تفصیل کتاب خروج باب ۱۹، ۲۰ میں مذکور ہے خروج میں لکھا ہے کہ خدا تعا لیٰ نے حضرت موسیٰ ؑسے کہا کہ بنی اسرائیل کو پاک کر کے سینا کے نیچے لا کھڑا کر۔تاکہ وہ سنیں کہ میں تجھ سے کلام کر تا ہوں پہلے تو وہ پہاڑ کے پاس کھڑے رہیں۔لیکن جب قرناء کی آواز بہت بلند ہو تو ادھر آجائیں حضر ت موسیٰ ؑجب وہاں گئے اور خدا کا کلام نازل ہوا تو ساتھ اس کے بجلی چمکی اور دھواں اٹھااور گرج ہوئی۔تو لوگ ڈر کر دور کھڑے ہوگئے۔جب موسیٰ ان کے پاس واپس گئے تو انہوں نے انہیں کہا۔کہ ’’ تو ہی ہم سے بول اور ہم سنیں لیکن خدا ہم سے نہ بولے کہیں ہم مر نہ جائیں‘‘۔موسیٰ ؑنے لوگوں کو کہا کہ تم مت ڈرو۔اس لئے کہ خدا آیا ہے کہ تمہیں امتحان کرے۔اور تاکہ اس کا خوف تمہارے سامنے ظاہر ہو کہ تم گناہ نہ کرو۔تب وے لوگ دور ہی کھڑے رہے۔اور موسیٰ ؑکالی بدلی کے جس میں خدا تھا نزدیک گیا۔(خروج باب ۲۰ آیت ۱۹تا ۲۱)حضرت موسیٰ ؑنے خدا سے جاکر عرض کی کہ الٰہی میری قوم تو تیرے پاس نہیں آتی۔تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو وحی ہوئی ’’انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ ساایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔(استثنا باب ۱۸ آیت ۱۸) اس پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک نبی ان کا مثیل ہو کر آئے گا۔اوروہ جب خدا کا کلام سنائے گا تو کہے گا کہ میں خدا کا نام لے کر یہ کلام سنا تا ہوں۔’’خدا کا نام لے کر ‘‘ سناتا ہوں کا ترجمہ عربی زبان میں بسم اللہ ہے۔پس بسم اللہ ہر یہودی اور عیسائی کو توجہ دلاتی ہے کہ اگر تم اس کتاب کو رد کرو گے تو موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کے بموجب پکڑے جاؤ گے۔اتنے واضح لفظوں میں یہ پیشگوئی تھی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اسے نہ یہودیوں نے سمجھا نہ عیسائیوں نے۔یہاں تک کہ قرآن کریم میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نازل ہوئی۔تب پتہ لگا کہ اس کا مفہوم کیا تھا ؟موسیٰ کی پیشگوئی کے الفاط ’’ اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جو وہ میرا نام لے کے کہے گا