تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 149
اس سکون کے ذکر سے مقصود تمثیل ہے رات کا ذکر اس جگہ بطور تمثیل کے لایا گیا ہے۔رات انسان کی جسمانی قوتوں کو پھر نشوونما کا موقع دینے کے لئے بنائی گئی ہے۔اسی طرح قوموں میں جمود اور جہالت کی حالت ان کے قومی اخلاق کو پھر درست کرنے کا موجب ہوجاتی ہے۔اور ایک عرصہ تک باطل رہنے کے بعد پھر اقوام نئے جوش سے اٹھتی ہیں۔اسی طرح دن کی تمثیل دی کہ دن بعد میں اس لئے چڑھتا ہے کہ ان حاصل شدہ طاقتوں کو استعمال کیا جائے۔پس مخاطبین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی چاہیے کہ اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اب جبکہ ان کے لئے دن چڑھایا گیا ہے اپنی حالت کو بدلیں اور سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھائیں۔اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے اس جگہ رات کا ذکر پہلے کیا ہے اور دن کا بعد میں۔اگر آنکھوں سے کام نہیں لیتے تو کم از کم کانوں سے ہی سن لو یہاں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ آخر میں دن کا ذکر تھا۔اور اس کے ساتھ مُبْصِرًا فرما کر دیکھنے کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔پھر باوجود اس کے آیت کواِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ پر کیوں ختم کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس لفظ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ باوجود اس کے کہ تمہارے لئے روحانی سورج چڑھا دیا گیا ہے تم ابھی تاریکی میں پڑے ہوئے ہو اور دیکھنے کے قابل نہیں ہوئے پس کم سے کم کانوں سے تو سن لو تاکہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر ہی زندگی پاسکو۔قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِيُّ١ؕ لَهٗ مَا فِي (اور )انہوں نے (تو یہ بھی) کہہ دیا ہے(کہ )اللہ (تعالیٰ) نے (بھی اپنے لئے) اولاد اختیار کی ہے۔اس کی تسبیح السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ (کرو) وہ نہایت (ہی) بے نیازہے۔جو کچھ آسمانوں میں (پایا جاتا) ہے اور جو کچھ زمین میں( موجود) ہے بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۶۹ (سب) اسی کا ہے۔اس( دعویٰ) کا تمہارے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں ہے (پھر) کیا تم اللہ (تعالیٰ) کی طرف وہ ( بات) منسوب کرتے ہو جس کی بابت تم( کچھ بھی) علم نہیں رکھتے۔حلّ لُغَات۔سُلْطَانٌ۔اَلسُّلْطَانُ الْحُجَّۃُ دلیلِ محکم۔اَلتَّسَلُّطُ۔غلبہ، اقتدار۔قُدْرَۃُ الْمُلْکِ