تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 148

تفسیر۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلعم کو تسلی اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو طرح تسلی دلائی ہے۔اول یہ کہ جب سزا دینا خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو پھر تمہیں حد سے زیادہ غم نہیں ہونا چاہیے۔بے شک ان لوگوں کی حالت پر غم کرو۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھو کہ ان کا فیصلہ ایک قادر خدا کے ہاتھ میں ہے۔وہ سزا دینے پر بھی اور اصلاح کرنے پر بھی قادر ہے۔دوسرے یہ بتایا ہے کہ جس امر پر یہ لوگ قائم ہیں اس کی تو حقیقت ہی کچھ نہیں۔پس آج نہیں تو کل ان کے مشرکانہ عقائد آپ ہی آپ مٹ جائیں گے۔بے حقیقت شی حقیقت کے مقابلہ پر آکر کب تک ٹھہر سکتی ہے۔هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَ النَّهَارَ وہ (لا شریک ہستی) وہ (ذات ِپاک) ہے جس نے تمہارے لئے رات کو اس لئے (تاریک) بنایا ہے کہ تم اس میں مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۰۰۶۸ آرام پاؤ۔اور( بالمقابل )دن کو (کام کاج) کے لئے روشن( بنایا ہے) جو لوگ( حق بات کو) سنتے (اور اس سے فائدہ اٹھاتے )ہیں ان کے لئے اس (نظام) میں یقیناً کئی ایک نشان ہیں۔حل لغات۔سَکَنَ سَکَنَ یَسْکُنُ سُکُوْنًا قَرَّ۔ٹھہرا رہا۔سَکَنَ فُلَانٌ دَارَہٗ وَسَکَنَ فِیْھَا سَکَنًا وسُکْنًا۔اسْتَوْطَنَھَا وَاَقَامَ بِہَا۔رہائش اختیار کی۔سَکَنَ إِلَیْہِ اِرْتَاحَ راحت پائی۔جمعیت خاطر حاصل کی۔سَکَنَ عَنْہُ الْوَجَعُ۔فَارَقَہٗ درد تھم گیا۔دور ہو گیا۔(اقرب) مُبْصِرًا مُبْصِرًا اَبْصَرَ سے نکلا ہے جس کے معنی رَاٰہُ کے بھی ہیں۔یعنی اسے دیکھا۔ا ور جَعَلَہٗ بَصِیْرًا کے بھی ہیں۔یعنی اسے دیکھنے والا بنا دیا۔(اقرب) اس جگہ دوسرے معنی مراد ہیں۔تفسیر۔سکون زیادہ قوت کا ذریعہ ہوتا ہے متحرک بالارادہ کا اپنی حرکت کو بند کرنا ہمیشہ مزید طاقت و قوت کے حصول کے لئے ہوتا ہے۔درحقیقت تکان کو اللہ تعالیٰ نے اسی بات کے بتانے کے لئے پیدا کیا ہے کہ تا مخلوق کو معلوم ہوجائے کہ اب پھر اسے غذا کی ضرورت ہے۔جب کسی چیز کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے اندر حرکت سے منافرت پیدا ہوجاتی ہے۔اور یہ گویا اس کے لئے ایک تنبیہ ہوتی ہے کہ اب تمہیں غذا لینی چاہیے۔اور رات چونکہ کام کے چھوڑنے پر ایک رنگ میں مجبور کردیتی ہے اس لئے وہ گویا باعثِ سکون ہوتی ہے۔