تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 147
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزگی پر دلالت کرتی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ پر اعتراضوں کی وجہ سے غم کرتے تھے اور دوسری طرف یہ آیت بتاتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالیٰ کو کس قدر محبت ہے۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا تعالیٰ کی ذات پر اعتراض کرنے سے غم کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی یہ شفقت ہے کہ تسلی دیتا ہے کہ آپ غم نہ کریں وہ سمیع (بہت سننے والا) اور علیم (بہت جاننے والا) ہے جب وہ دیکھے گا کہ ان اعتراضوں سے بد نتیجہ نکلتا ہے اور اس کی عظمت کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ خود ہی ان اعتراضات کو مٹا دے گا۔تجھے غم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا يَتَّبِعُ سنو! جو (فردِ مخلوق بھی) آسمانوں کے اندر (پایا جاتا) ہے اور جو( بھی) زمین میں (موجود) ہے (ہر ایک) اللہ (تعالیٰ) الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا ہی کا ہے اور جو لوگ اللہ( تعالیٰ) کے سوا( اور اور چیزوں) کو پکارتے ہیں وہ( دراصل) شریکوں کی پیروی نہیں کرتے الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۰۰۶۷ (بلکہحق یہ ہے کہ) وہ (اپنے)وہم کے سوا کسی (چیز) کی( بھی )پیروی نہیں کرتے۔اور وہ صرف تخمینوں (اور ڈھکونسلوں) سے کام لیتے ہیں۔حلّ لُغَات۔مَا۔أَیُّ شَیْءٍ کے معنی میں بھی آتا ہے۔یعنی کیا چیز اور نافیہ ہوکر بھی آتا ہے۔یعنی نہیں۔پس اس کے ایک معنی یہ ہوئے کہ کس چیز کی اتباع کرتے ہیں۔پس لوگ جو خدا تعالیٰ کے سوا اوروں کو پکارتے اور شریک قرار دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سواء اور چیزوں کو پکارنے والے ہیں یہ شرکاء کی اتباع نہیں کرتے۔کیونکہ شریک تو کوئی ہے ہی نہیں۔یہ تو اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔گویا پہلے معنی کے لحاظ سے ان کے شرکاء کی حقارت کا اظہار ہے اور دوسرے میں نفی کہ ہمارا شریک تو کوئی ہے ہی نہیں۔خَرَصَ یَخْرُصُ خَرْصًا۔کَذَبَ جھوٹ بولا۔خَرَصَ فِیْہِ۔حَدَسَ وَقَالَ بِالظَّنِّ ڈھکوسلا مار دیا۔یا صرف گمان کی بناء پر ایک بات کہہ دی۔یہاں دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔یہ بھی کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ صرف وہموں کی بنا پر بات کرتے ہیں۔