تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 146

نہیں بدلا کرتے۔ذٰلِكَ کا مشار الیہ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ یعنی خدا تعالیٰ سے بشارت کا ملنا ہی بڑی کامیابی ہوتا ہے یا یہ کہ کلمات اللہ کا تبدیل نہ ہونا یہی بڑی کامیابی ہے۔دونوں معنی لئے جاسکتے ہیں۔بشارت کا کامیابی ہونا تو ظاہر ہی ہے۔کلمات اللہ کا نہ بدلنا کامیابی کا بہت بڑا گر ہے کلمات اللہ کا نہ بدلنا بھی کامیابی کا بہت بڑا گر ہے۔دینی امور میں بھی اور دنیوی امور میں بھی۔چنانچہ سائنس کی بنیاد ہی ایسے قوانین پر ہے جو نہیں بدلتے۔قوانین نیچر بدلتے رہتے تو دنیا ہرگز ترقی نہ کرسکتی۔اور ایجادات کا سلسلہ ہرگز نہ چلتا۔آگ جلاتی ہے۔پانی سیراب کرتا ہے۔بجلی تباہ کرتی ہے۔ہر ایک چیز کے قوانین علیحدہ علیحدہ ہیں اور یہ بدلتے نہیں ہیں۔اگر یہ بدل جاتے اور کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی آگ جلانے لگتا تو آگ جلنے کی بجائے پانی پیدا ہو جاتا۔اور آٹا ہی بھیگ جاتا یا لوگ پنکھا چلاتے تو آگ پیدا ہوجاتی تو دنیا کبھی قدرت کے ذخیروں سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ نہ کرتی۔اور نظام عالم تباہ ہوجاتا۔پس خدا تعالیٰ کے نہ بدلنے والے قوانین ہی کامیابی کی جڑ ہیں۔انہی کے راز معلوم کرکے دنیا ترقی کررہی ہے۔وَ لَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا١ؕ هُوَ السَّمِيْعُ اور( چاہیے کہ) ان کی (کوئی مخالفانہ) بات تمہیں غمگین نہ کرنے پائے (کیو نکہ) غلبہ بکلی اللہ (تعالیٰ)کا(ہی حصہ) الْعَلِيْمُ۰۰۶۶ ہے (اور )و ہ خوب سننے والا( اور) خوب جاننے والا ہے۔تفسیر۔آپ ؐ کا غم خدا تعالیٰ پر لوگوں کے اعتراضوں کی وجہ سے تھا پہلے تو فرمایا تھا کہ اولیاء اللہ پر غم ہی نہیں آتا۔لیکن اب فرمایا کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔اس کی وجہ وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حزن آپ کا ذاتی نہ تھا بلکہ آپ کا غم خدا تعالیٰ پر اعتراضوں کی وجہ سے تھا۔تو فرمایا کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔عزت تو خدا کی لونڈی ہے۔جیسا کہ لِلہِ کے لام سے ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ لام ملک پر دلالت کرتا ہے۔تم کیوں غم کرتے ہو ان کے اعتراض تو فضول ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے تسلی اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ایک طرف تو یہ آیت