تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 143
ہم بھی ان سے محبت کریں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ وہ لوگ ہیں جو صرف خدا تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں۔مال یا رشتہ داری اس محبت کا موجب نہیں ہوتی۔(کیا ہی عجیب زمانہ تھا کہ صحابہ نیکوں سے محبت کی خواہش کرتے تھے لیکن آج کل نیکوں سے لوگ بغض رکھتے ہیں) ان لوگوں کی علامت یہ ہے کہ ان کے چہرے منور ہوں گے نورانی ممبروں پروہ بیٹھے ہوں گے۔دوسری ان کی علامت یہ ہے کہ جب لوگوں پر خوف آتا ہے تو وہ نڈر ہوتے ہیں۔اور جب لوگ اپنی گزشتہ باتوں پر جزع فزع کررہے ہوتے ہیں تو وہ امن میں ہوتے ہیں۔ولی اللہ بننے کی راہ اس حدیث میں اولیاء اللہ بننے کا طریق بتایا ہے اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کی خاطر نبی کے ہاتھ پر جمع ہونے والی جماعت سے محبت کرے اور دنیا کی باتوں سے نڈر ہو۔بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ دعا کرو۔خدا تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان جیسے بننے کا یہ طریق ہے کہ آپس میں دلوں کے بغض نکال دیں۔اور تفرقہ کو چھوڑ دیں۔اور مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے رابطۂ اتحاد پیدا کریں۔دنیا سے نہ ڈریں اور نہ مصائب سے گھبرائیں۔نبیوں کے رشک کرنے کے معنی نبیوں کے رشک کرنے کا جو اس حدیث میں ذکر ہے اس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ نبی ان لوگوں سے ادنیٰ درجہ کے ہوتے ہیں بلکہ رشک سے مراد یہ ہے کہ نبی چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ ہمارے متبعین میں سے بکثرت ہوں۔نہ یہ کہ وہ خود ایسے ہوجائیں کیونکہ کوئی نبی نہیں ہوسکتا جس میں یہ صفت پہلے ہی سے نہ پائی جائے۔لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا ان کے لئے (اس) ورلی زندگی میں( بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے) بشارت( پانےکا انعام مقرر )ہے۔اور بعد تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُؕ۰۰۶۵ والی( زندگی) میں بھی۔اللہ (تعالیٰ) کی (فرمودہ) باتوں میں( قطعاً)کوئی تبدیلی نہیں (ہو سکتی) یہی (وہ کامیابی ہے جو بڑی) عظیم الشان کامیابی( کہلا سکتی )ہے۔تفسیر۔حدیث میں اس بُشْرٰی کی کئی تشریحیں آئی ہیں۔بشریٰ کے معنی حدیث میں اول۔عَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قَوْلِہٖ