تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 134

تفسیر۔قرآن کریم کی تعلیم کے مقابل پر تمہارے حلت و حرمت کے احکام کسی اصل پر مبنی نہیں چونکہ پہلے یہ بتایا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کتاب ملی ہے جو لوگوں کے دلوں کے شکوک کو بدل دے گی اب اس کے ثبوت میں ایک حکم بیان فرماتا ہے جو کفار میں رائج تھا اور جس کو لوگ صرف اس وجہ سے مانتے تھے کہ باپ دادا سے سنتے چلے آئے ہیں ورنہ عقلیں اس کو تسلیم کرنے کے لئےتیار نہ تھیں۔اور وہ حلت و حرمت کا حکم تھا۔کھانا پینا انسان کی پہلی ضرورتوں میں سے ہے اور اس کے متعلق صحیح رہنمائی کرنا مذہب کا پہلا فرض ہے۔لیکن کفار مکہ کے پاس بلکہ دنیا بھر کے پاس اس کے متعلق کوئی صحیح راہنمائی نہ تھی جس چیز کو چاہا حرام کر دیا اور جس چیز کو چاہا حلال کر دیا۔نہ کوئی قانون تھا نہ قاعدہ۔اس بے اصولی تعلیم کو کون سی عقل تسلیم کرسکتی ہے۔آخر حرمت کے لئے کوئی طبی یا اخلاقی یا مذہبی دلیل چاہیے۔کسی چیز کو یا طبی نقائص کی وجہ سے حرام کیا جاسکتا ہے یا اخلاقی نقائص کی وجہ سے یا پھر روحانی امور کے سبب سے لیکن بلا کسی وجہ کے آپ ہی حرام کر دینا اور آپ ہی حلال کر دینا خدا تعالیٰ کی پیدائش کو باطل قرار دینا ہے۔اور اس حلت و حرمت کے قواعد کے متعلق ضرور انسانوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہوں گے۔مگر ان شکوک کو سوائے اس مذہب کے کون دور کرسکتا ہے؟ جس نے حلال و حرام کے قواعد مقرر کئے ہیں اور ان قواعد کے رو سے کہ جن کو ہر عقل سلیم تسلیم کرسکتی ہے۔وہ مختلف اشیاء کو حلال یا حرام قرار دیتا ہے۔اسلام کو تمام دیگر مذاہب پر یہ بھی فضیلت حاصل ہے کہ حلال و حرام کے اس نے قواعد مقرر کئے ہیں اور بلاوجہ صرف اظہار حکومت کے لئے اس نے چیزوں کو حلال یا حرام نہیں قرار دیا۔قرآن کریم وہی چیزیں چھڑواتا ہے جو بہرحال تمہیں چھوڑنی ہی تھیں اس جگہ اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آخر اسلام کی مخالفت کی وجہ کیا ہے۔وہ کون سی چیز ہے جو وہ تم سے چھڑواتا ہے لیکن وہ مفید ہے۔اپنی حلال و حرام ہی کی تعلیم لے لو۔کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کے چھڑوانے پر اس قدر واویلا کیا جائے۔اگر قرآن نہ بھی آتا تب بھی ایسی بیہودہ تعلیم کو تم آخر چھوڑ ہی دیتے۔پس اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر تمہیں خوش ہونا چاہیے نہ کہ ناراض۔اس آیت میں رَأَيْتُمْ متعدی بیک مفعول ہے۔جو مَآ ہے اور جائز ہے کہ متعدی بدو مفعول ہو اور اس میں دو سرا قُلْ اور ہمزہ پہلے قُلْ اور ہمزہ کی تاکید کے لئے آئے ہوں اور رَأَیْتُمْ کا مفعول ثانی اَذِنَ لَکُمْ ہو اور اَمْ منقطعہ ہو۔