تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 131

(ب) دوسرے اس کے مطالب ایسے ہیں کہ جو دل کو نرم کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پر اس قدر زور ہے کہ سنگدل سے سنگدل انسان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔(ج) اس میں تمہاری ترقی اور کامیابی کے گر بتائے گئے ہیں اور انہیں پیش بھی ایسے رنگ میں کیا گیا ہے کہ جس سے نفرت اور ضد نہ پیدا ہو بلکہ دل کو موہ لینے والا طریق اختیار کیا گیا ہے۔شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِکی تفصیل (۲) دوسرے یہ کتاب دلی شبہات کے لئے شفاء ہے۔انسان خواہ کس قدر ہی گر جائے اس کی فطرت کبھی کبھی اس کے دل میں صداقت کے لئے تڑپ پیدا کر ہی دیتی ہے۔اور حقیقت کے معلوم کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہوہی جاتی ہے۔اور خدا تعالیٰ اور الہام اور دعا اور معاد اور ایسے ہی دیگر امور کے متعلق وہ ایک اطمینان چاہتا ہے لیکن جھوٹے مذاہب یا نامکمل اور بگڑے ہوئے مذہب اس کی تسلی نہیں کرسکتے بلکہ ان سے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں اور اس وقت انسان خواہش کرتا ہے کہ کاش کوئی ایسی راہ ہو کہ دل ان شبہات سے پاک ہوسکے۔اس وقت تم اس کلام میں تسلی پاؤ گے اور دیکھو گے کہ کس طرح امور ایمانیہ کے متعلق تمام شبہات کو یہ دور کرتا ہے اور خودبخود دل اس کی طرف مائل ہوں گے۔ہدایت کی حقیقت (۳) شبہات کے دور کرنے کے علاوہ انسان جب بزرگان دین کے حالات پڑھتا ہے اور معلوم کرتا ہے کہ کس طرح وہ لوگ ایک اعلیٰ یقین اور قرب الٰہی کے مقام پر پہنچے ہوئے تھے اور دین کی باریکیاں ان کو بتائی گئی تھیں اس وقت اس کا دل خواہش کرتا ہے کہ کاش میرا علمی ایمان بھی مشاہدہ کی صورت میں بدل جائے۔اور میں بھی اپنی آنکھوں سے ان امور کو دیکھوں جن کو پہلے بزرگ دیکھتے چلے آئے ہیں۔یہ خواہش بھی بہت سے لوگوں کے دلوں کو بے تاب کئے رکھتی ہے۔پس اس حالت میں مبتلا لوگ بھی اس کتاب میں تسلی پائیں گے۔اور حقیقی ہدایت ان کو ملے گی۔جو بندہ کو خدا تعالیٰ سے ملا دیتی ہے۔اور جب لوگ دیکھیں گے کہ اس کتاب پر چل کر خدا مل سکتا ہے بغیر اس کے نہیں تو خود بخود اس کے قبول کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے۔رحمت یعنی خاص فضل (۴) بعض لوگ ایسی موٹی عقل کے ہوتے ہیں کہ وہ علوم اور وجدان کی باریکیوں کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے۔مگر مادی ترقیات ان کی توجہ کو کھینچ لیتی ہیں۔سو ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے اس کتاب کے ساتھ خدا تعالیٰ کے خاص فضل بھی وابستہ ہیں جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے ان پر اللہ تعالیٰ خاص فضل کرے گا اور ان کو دنیوی ترقیات بھی عطا فرمائے گا۔پس عوام الناس جو چیز کی حقیقت دیکھنے کے بجائے اس کے اثرات اور نتائج کو دیکھا کرتے ہیں ان ترقیات کو دیکھ کر جو اسلام سے وابستہ ہیں اسلام میں داخل ہوں گے اور انہی انعامات کو