تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 123
وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۴۹ اور وہ کہتے ہیں( کہ) اگر تم لوگ سچے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہو گا۔تفسیر۔مخالفین انبیاء ہمیشہ عذاب پر زور دیتے ہیں ضدی آدمی کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے۔پچھلی آیت میں ضمناً یہ ذکر تھا کہ نبی سے جدا ہونا ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ عذاب کی شرائط اور اس میں ڈھیل پڑنے کی وجوہ تفصیل سے پہلے بیان ہوچکی تھیں وہ اس ضمنی ذکر پر سب پہلی باتیں بھول جاتے ہیں۔اور جھٹ سوال کر دیتے ہیں کہ اچھا وہ عذاب کب آئے گا؟ وہ سوائے تباہی کے نشان کے اور کسی نشان پر تشفی نہیں پاتے۔افسوس کہ آج کل مسلمانوں کا بھی یہی حال ہورہا ہے۔وہ صداقت کے نشانات کے طورپر ہمیشہ عذاب طلب کرتے ہیں۔قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ تو (انہیں )کہہ( کہ) میں( تو) اللہ( تعالیٰ) کی مشیت کے سوا( خود) اپنے حق میں (بھی) نہ کسی نقصان پر قابو رکھتا لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ ہوں اورنہ کسی نفع پر۔(ہاں یہ درست ہے کہ) ہر ایک قوم (کے مستوجب عذاب قرار پانے) کے لئے ایک میعاد مقرر سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۠۰۰۵۰ ہوتی ہے (اور) جب وہ آجاتی ہے تو (اس وقت) وہ نہ کوئی گھڑی (اس سے) پیچھے رہ( کر اس سے بچ )سکتے ہیں اورنہ (ہی) آگے بڑھ( کر اس سے خلاصی پا )سکتے ہیں۔تفسیر۔جب میں اپنے نفع و نقصان کا بھی خودمالک نہیںتو تم پر کیوں کر کوئی عذاب لا سکتا ہوں اوپر کی آیت میں جو مطالبہ تھا اس کا ایک اور لطیف طریق پر جواب دیا ہے اور فرمایا ہے کہ میں تو اپنے نفس کے ضرر اور نفع کا بھی مالک نہیں۔میں تمہارے اس عذاب کے مطالبہ کو کس طرح پورا کرسکتا ہوں۔توحید کا اثبات اور اس کی اہمیت و عظمت یہ آیت اور اس قسم کی دوسری آیات کس وضاحت سے ثابت