تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 122
وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ اور ہر ایک قوم کے لئے ایک (نہ ایک) رسول (کا آ نا ضروری ہوتا)ہے پس جب ان کا رسول آتا ہے تو ان کے بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۴۸ درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر( کوئی) ظلم نہیں کیا جاتا۔حلّ لُغات۔اُمَّۃٌ اُمَّۃٌکے کئی معنی ہیں۔اَلْجَمَاعَۃُ۔جماعت۔اَلْجِیْلُ مِنْ کُلِّ حَیٍّ قبیلہ کا بڑا حصہ۔الطَّرِیْقَۃُ۔طریقہ۔اَلدِّیْنُ مذہب۔اَلْحِیْنُ وقت۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے وَ لَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ۔(ہود: ۹) اَلْقَامَۃُ قد (اقرب) گویا یہ لفظ زمان و مکان دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔تفسیر۔ضروری نہیں کہ ایک امت میں ایک ہی رسول آئے اس زمانہ کے بعض بدعتیوں نے اس آیت کے عجیب معنی کئے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہر امت کے لئے ایک ہی رسول ہوا کرتا ہے اس لئے امت محمدیہ میں کوئی دوسرا رسول نہیں آسکتا۔یہ بات بالبداہت باطل ہے۔اس آیت میں رسول کے وجود پر زور دیا گیا ہے نہ کہ تعداد پر یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ امت بغیر رسول کے نہیں ہوسکتی نہ یہ کہ امت میں ایک ہی رسول آتا ہے۔اور یہ بات واقعات کے بھی خلاف ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی حضرت ہارون بھی رسول تھے اور دونوں کے مخاطب ایک تھے۔اس آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہر مذہبی جماعت کی ابتداء رسول کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔میرے نزدیک چونکہ اس میں ابتداءٍ امۃ کا ذکر ہے اس لئے رسول سے مراد صاحب شریعت نبی ہے۔کیونکہ امت کی ابتداء شرعی رسولوںکے ہاتھوں ہی سے کی جاتی ہے۔قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ یعنی جو انبیاء کی جماعت میں شامل ہونے کے قابل ہوتا ہے وہ شامل کر لیا جاتا ہے۔اور جو اپنے آپ کو اس قابل نہیں بناتا وہ ہلاک کر دیا جاتا ہے۔اس آیت میں کفار کو یہ بتایا گیا کہ کوئی قوم خدا کے فضلوں اور اس کی برکتوں کی وارث نہیں ہوتی جب تک کہ رسول کے ساتھ وابستگی و تعلق پیدا نہ کرے۔یہ امید نہ رکھو کہ تم یونہی ترقی کر جاؤ گے۔اگر ترقی کرنا چاہتے ہو تو اس رسول سے سچی وابستگی اور پکا تعلق پیدا کرو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔