تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 112
بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا يَاْتِهِمْ (مگر ان کا یہ خیال درست نہیں )بلکہ (حقیقت میں) انہوں نے (ایک) ایسی چیز کو جھٹلا دیا ہےجس کا انہوں نے پورا تَاْوِيْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ علم حاصل (ہی) نہیں کیا تھا اور نہ (ہی) ابھی اس کی حقیقت ان پر ظاہر ہوئی تھی۔جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۴۰ نے (بھی) اسی طرح جھٹلایا تھا۔پھر دیکھ (کہ) ان ظالموں کا کیا انجام ہوا تھا۔حلّ لُغات۔تَأْوِیْلٌ اَلتَّأْوِیْلُ اَلظَّنُّ بِالْمُرَادِ۔کسی کلام کے مطلب و مدعا کی نسبت ظن غالب بَیَانُ أَحَدِ مُحْتَمِلَاتِ اللَّفْظِ۔کسی لفظ کے کئی احتمالی معانی میں سے کسی ایک کی تعیین کرنا۔اَلْعَاقِبَۃُ انجام۔اَوَّلَ الشَّیْءَ رَجَّعَہٗ۔لوٹایا۔اَلْکَلَامَ دَبَّـرَہٗ وَ قَدَّرَہٗ وَفَسَّرَہٗ تدبر کیا اور اس کا صحیح مطلب نکالا۔اَلرُّؤْیَا عَبَّرَھَا تعبیر کی۔(اقرب) تفسیر۔قرآن کریم کو کفار کے افتراء قرار دینے کی وجہ یعنے یہ جو افتراء افتراء کہتے رہتے ہیں ان کی بات پر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔انسان جب کسی بات کو سمجھ نہیں سکتا تو اسے غلط قرار دے دیا کرتا ہے۔یہ بھی جب قرآن کریم کے مطالب کو نہ پہنچ سکے اور اپنے متداول علوم اور رائج قانون کے اسے خلاف پایا تو جھٹ اس کا انکار کر بیٹھے۔زمخشری کا قول ہے بَلْ سَارَعُوْا اِلَی التَّکْذِیْبِ بِالْقُرْاٰنِ فَاجَئُوْہُ فِی بَدِیْھَۃِ السَّمَاعِ قَبْلَ اَنْ یَفْھَمُوْہُ وَیَعْلَمُوْا کُنْہَ اَمْرِہٖ (بحرمحیط)۔یعنی انہوں نے قرآن کے جھٹلانے میں جلدی کی اور اس کے سمجھنے اور اس کی حقیقت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کا مقابلہ شروع کر دیا۔وَ لَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ۔ابن عطیہ کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ ابھی انجام ظاہر نہیں ہوا اور وعید پورے نہیں ہوئے کہ پہلے ہی انہوں نے شور مچا دیا۔یہ شور ان لوگوں کا نیا نہ تھا بلکہ پہلے انبیاء کے مخالفین بھی ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں۔بلکہ حق کا مقابلہ کرنے والے ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔اس وقت کا انتظار نہیں کرتے جب حقیقت کے انکشاف کا وقت آئے۔اور پہلے ہی