تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 110
تقاضاؤں اور تمام احساسات کا اس میں خیال رکھا گیا ہو۔قرآن کریم میں یہ خوبی پائی جاتی ہے وہ یکساں طور پر تمام انسانی طبائع کا لحاظ رکھتا ہے۔نہ اس میں یہ تعلیم ہے کہ تو صرف رحم ہی کئے جا اور نہ یہ کہ تو معاف ہی نہ کر۔بلکہ یہ تعلیم ہے کہ تو رحم کے موقع پر رحم کر اور سزا کے موقع پر سزا دے۔اسی طرح تمام تعلیمات اس کی ایسی ہیں کہ ان میں تمام طبائع اور تمام زمانوں کا لحاظ رکھا گیا ہے اور جاہل اور عالم کا خیال رکھا گیا ہے۔اور یہ ایک زبردست ثبوت اس کے خدا کا کلام ہونے کا ہے۔فتبارک اللہ احسن الخالقین۔اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (شخص) نے اسے (اپنی طرف سے) گھڑ لیا ہے۔تو (انہیں) کہہ (کہ ) اگر تم (اس بیان میں) سچے ہو اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۳۹ تو اس جیسی کوئی ایک (ہی) سورت لے آؤ۔اور اللہ (تعالیٰ )کے سوا جس (کسی کو بھی بلانے )کی تمہیں طاقت ہو(اپنی مدد کے لئے) بلا لو۔حلّ لُغات۔سُوْرَۃٌ اَلسُّوْرَۃُ۔اَلْمَنْزِلَۃُ مرتبہ اَلرِّفْعَۃُ بلندی مرتبہ۔اَلْفَضْلُ۔فضیلت۔اَلشَّرَفُ عظمت و بزرگی۔مَاطَالَ مِنَ الْبَنَاءِ اِلَی جِھَۃِ السَّمَاءِ وَحَسُنَ بلند اور خوبصورت عمارت۔اَلْعَلَامَۃُ دلیل و نشان۔اَلقِطْعَۃُ الْمُسْتَقِلَّۃُ۔مستقل حصہ۔(اقرب) تفسیر۔نظیر لانے کے لئے تحدی یعنی باوجود ان خوبیوں کے جو اوپر بیان ہوئیں یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا افتراء ہے۔اگر ان خوبیوں والا کلام افتراء ہوسکتا ہے تو پھر کیوں یہ لوگ ایسا کلام بناکر پیش نہیں کرتے۔اس آیت میں قرآن کریم نے تحدی کی ہے مگر افسوس کہ مفسرین نے اس کی پوری حقیقت کو نہیں سمجھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے۔اور بتایا ہے کہ اس دعویٰ میں صرف زبان کو نہیں بلکہ قرآن کریم کی سب خوبیوں کو پیش کیا گیا ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس دعویٰ سے یہ مراد ہے کہ جو کوئی کلام بنا کر اس کے مقابل پر پیش کرے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔اس تحدی کے بیان میں قرآن کریم میں کوئی اختلاف نہیں میرے نزدیک جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں مفسرین نے اس مضمون کی حقیقت کو جو اس جگہ بیان ہوا ہے نہیں سمجھا۔یہ مضمون مختلف الفاظ میں کئی مقام پر بیان ہوا ہے۔اور لوگوں نے غلطی سے یہ خیال کیا ہے کہ مختلف زمانوں میں قرآن کریم نے اپنے دعویٰ کو بدلا ہے۔