تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 102

بعض قانون مقرر فرما چھوڑے تھے اور ان کے ماتحت پیدائش عالم ہورہی ہے۔تو تمہارے معبودانِ باطلہ کا دخل اس میں کہاں سے ثابت ہوا اور اس کی ضرورت کیا تھی؟ سلسلہ پیدائش کی دلالت سلسلہ ہدایت پر اس آیت میں ا س طرف بھی اشارہ ہے کہ جس بادشاہ نے ایک بظاہر غیرمتناہی سلسلہ مخلوق کا پیدا کیا ہے وہ اس کی ہدایت دوسروں پر کس طرح چھوڑ سکتا تھا۔یا ایک زمانہ کے لوگوں کو ہدایت دے کر بعد کی نسلوں کو کس طرح محروم رکھ سکتا تھا۔اگر پیدا کرنے والا اور ہوتا اور سلسلہ پیدائش کا جاری رکھنے والا اور تب تو کہہ سکتے تھے کہ پیدا کرنے والے نے ابتداء آفرینش میں ہدایت دے دی اور سلسلۂ تناسل کے جاری رکھنے والے نے پرواہ نہ کی۔مگر جب پیدا کرنے والا اور سلسلہ پیدائش کو جاری رکھنے والا ایک ہی رب ہے تو بعد میں آنے والی نسلوں کو وہ ہدایت سے کس طرح محروم کرسکتا تھا؟ قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ تو (ان سے یہ بھی) کہہ (کہ )کیا تمہارے (بنائے ہوئے )شریکوں میں سے کوئی (بھی ایسا )ہے جو حق کی طرف اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ ( لوگوں کی) رہنمائی کرتا ہو (وہ تو اس سوال کاکیا جواب دیں گے) تو ہی (ان سے) کہہ( کہ) اللہ (تعالیٰ ہی ہے جو) يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّهْدٰى ١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَيْفَ حق کی طرف (لوگوں کی )رہنمائی کرتا ہے۔پس کیا وہ (خدا) جو حق کی طرف رہنمائی کرتاہے۔اس بات کا زیادہ تَحْكُمُوْنَ۰۰۳۶ مستحق ہے کہ اس (کے احکام) کی پیروی کی جائے۔یا وہ (فرضی خدا )جو کہ سوائے اس (صورت) کے کہ اسے (ہدایت کا) راستہ دکھایا جائے (خود بھی) راہ نہیں پاتا۔پھر تمہیں (یہ) کیا (ہو گیا) ہے ؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔حلّ لُغات۔یَـھِدِّیْ یَھِدِّیْ ھُدًی میں سے باب افتعال کا فعل مضارع ہے۔اس میں’’ ت‘‘ کو ساکن کرکے ’’د ‘‘میں ادغام کیا گیا ہے۔جو لفظ یَہْتَدِیْ کا دوسرا طریق تلفظ ہے۔اس کی ماضی اِہْتَدٰی ہے۔جس کے معنی ہیں بتائے ہوئے راستہ کو اختیار کیا۔اقرب میں ہے اِھْتَدٰی اِھْتِدَاءً مُطَاوِعُ ھَدَی یعنی بتائی ہوئی ہدایت کو قبول کیا۔(اقرب)