تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 100

ہیں۔ایک وہ جو ربوبیت تو کرتے ہیں مگر فانی ہوتے ہیں۔ان کی ربوبیت ناقص ہوتی ہے۔اور ایک ایسا رب ہوسکتا ہے جو قائم بالذات ہو اور فنا سے پاک۔وہی اصل ربوبیت کرنے والا ہے۔پس فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف رب ہے بلکہ ازلی ابدی بھی ہے۔اس لئے اس کی ربوبیت جس قدر کامل ہوسکتی ہے اور کسی وجو د کی نہیں ہوسکتی اور اسے چھوڑ کر دوسروں کو اختیار کرنا۔گویا ہلاکت کی طرف جانا ہے۔كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِيْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا اسی طرح جن لوگوں نے فسق اختیار کیا ہے۔ان پر تیرے رب کا فرمودہ پورا ہوا ہے۔يُؤْمِنُوْنَ۰۰۳۴ کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔حلّ لُغات۔کَلِمَۃٌ اَلْکَلِمَۃُاللَّفْظُۃُ لفظ کُلُّ مَا یَنْطِقُ بِہِ الْاِنْسَانُ مُفْرَدًا کَانَ اَوْمُرَکَّبًا جو کچھ بولا جائے خواہ مفرد ہو یامرکب۔(اقرب) فِسْقٌ فَسَقَ الرَّجُلُ فِسْقًا تَرَکَ اَمْرَاللہِ۔اللہ کی نافرمانی کی۔عَصٰی نافرمان ہو گیا۔جَارَعَنْ قَصْدِ السَّبِیْل۔درست راہ سے روگردان ہو گیا۔فَـجَرَ۔بدکردار ہو گیا۔خَرَجَ عَنْ طَرِیْقِ الْحَقِّ۔حق کی راہ سے الگ ہو گیا۔ا لرُّطَبَۃُ عَنْ قِشْرِھَا خَرَجَتْ گابھا چھلکے سے باہر آگیا۔(اقرب) تفسیر۔فسق انسان کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے یعنے جس طرح یہ ثابت ہے کہ حق کے بعد سوائے گمراہی اور ہلاکت کے کچھ نہیں۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ جو لوگ فسق کرتے ہیں یعنی اطاعت سے نکل جاتے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔اس آیت سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔ہدایت یا ضلالت میں بڑھنےکے متعلق ایک قانون الٰہی بلکہ اس جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ الٰہی قانون ہے کہ جو غلط راستہ پر چلے گمراہی میں ترقی کرے اور جو نیک راستہ پر چلے نیکی میں ترقی کرے اور اگر انسانی پیدائش کا کوئی مقصد ہے تو اس قانون کا ہونا بھی ضروری تھا ورنہ دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔کہ ظلم کرنے والے اعلیٰ مدارج روحانیہ حاصل کرجاتے۔اور نیک گمراہ ہوجاتے۔جس شخص کے سامنے دلائل پر دلائل پیش کئے جائیں اور وہ انہیں